دن میں گاہک ایک، بھتے والے کئی

کراچی میں تشدد کا شکار ہونے والوں کے لواحقین تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جس شہر میں آٹھ ماہ میں ایک ہزار لوگ ماردیے جائیں اور اس سے کئی گنا زخمی ہوئے ہوں، تو گھروں میں ماتم ہوگا کون عید منائے گا

کراچی کا بوھری بازار اور شام کا وقت ہے، دس بائی دس کی دکان میں ایک گجراتی ایک گاہک سے ڈائننگ ٹیبل کے غلاف کا سودا طے کر رہا ہے، اچانک اس کا ساتھی دکاندار آتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ آگئے ہیں اور ہر کسی سے چار چار سو روپے لے رہے ہیں مگر تم دوسو روپے دیکر جان چھڑا لینا۔

چند لمحوں کے بعد چار لمبے چوڑے نوجوان اس دکان پر آ پہنچتے ہیں اور دکاندار کو چار سو روپے دینے کی ہدایت کرتے ہیں۔ دکاندار اسے بتاتا ہے کہ صبح سے ’بونی‘ نہیں ہوئی دھندا مندا ہے اس لیے وہ دو سو روپے لے لیں۔

سانولی رنگت والا نوجوان دکاندار کو بتاتا ہے کہ دو سو روپے تو وہ ’پتھارے والے‘ سے بھی لے رہا ہے وہ تو پھر بھی دکان چلاتا ہے، نوجوان دکاندار کو تین سو رپے دینے کی پیشکش کرتا ہے مگر دکاندار دو سو رپے لے کر ایک پرچی دینے کو کہتا ہے۔ نوجوان اس کو مسترد کرتے ہوئے یہ کہتا ہوا روانہ ہوجاتا ہے کہ کل آؤنگا اور چار سو روپے لے کر جاؤں گا۔

کچھ دیر کے لیے دکاندار کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں اس کے بعد وہ پھر گاہک کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔

میں نے دکاندار سے پوچھا کہ کیا صرف یہ ہی لوگ پرچی دیتے ہیں تو اس نے قدر ناراضگی سے کہا کہ یہ ابتداء ہے اس کے بعد دوسرے بھی آ جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ فلاں کو کتنے دیے تھے۔

ʼشہر کے حالات پہلے خراب ہیں دن کو بازار ویران اور رات کو سناٹا رہتا ہے، ایسے میں ہم کہاں ان کے مطالبات پورے کریں۔ʻ

شہر میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں چار سو سے زائد لوگوں پر تشدد واقعات میں ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ رواں سال ہلاکتوں کی یہ تعداد دوگنی ہے۔

کراچی کی گارمنٹس کی ملک بھر اور خلیجی ریاستوں میں عید کے دنوں میں طلب بڑھ جاتی ہے اور ان دنوں میں صنعتکار اور ہول سیل کا کاروبار کرنے والے تاجر اچھا بزنس کرتے ہیں، مگر تین ماہ سے شہر میں پرتشدد واقعات کے باعث مقامی اور بین الاقوامی دونوں کاروبار متاثر ہوا ہے۔

صدر، زینب مارکیٹ، طارق روڈ، جوبلی مارکیٹ، رنچھوڑ لائن اور جامع کلاتھ میں عام طور پر بیس رمضان کے بعد تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں ہوتی مگر آج کل یہ تمام مارکیٹیں خریداروں کی منتظر ہیں۔

کراچی ٹریڈرز ایکشن کمیٹی کے رہنما صدیق میمن کا کہنا ہے کہ شہر میں جاری قتل و غارت کے باعث شہر کے تین سو بازاروں میں کاروبار ٹھپ ہوگیا ہے، جس کے باعث تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے اور اس کا اثر حکومت کی آمدن پر بھی پڑے گا۔

روایتی طور پر عید کے قریب آتے ہی دکاندار گاہک سے زیادہ بات چیت یا بحث مباحثے میں نہیں پڑتے مگر اس بار بازار کے دورے کے موقعے پر ایسے کئی منظر نظر آئے جس میں دکاندار کی ہر ممکن کوشش تھی کہ سودہ طے ہوجائے۔

بچوں کی گارمنٹس کے ایک دکاندار سے میں نے پوچھا کہ اس بار کاروبار کیسا ہے؟ تو اس کا جواب تھا کہ اس سال تو ہپستال اور قبرستان آباد ہوئے ہیں بازار تو ویران ہیں۔ بقول اس کے جس شہر میں آٹھ ماہ میں ایک ہزار لوگ ماردیے جائیں اور اس سے کئی گنا زخمی ہوئے ہوں، تو گھروں میں ماتم ہوگا کون عید منائے گا۔

گزشتہ دنوں کراچی کے تجارتی اور صنعتی تنظیموں نے کراچی میں فوج طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ صورتحال رینجرز اور پولیس کے قابو سے باہر نکل چکی ہے اس لیے فوج کو مداخلت کرنی چاہیئے۔

مگر اس مطالبے کے برعکس عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ فوج کا مطالبہ سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے کیونکہ فوج کراچی میں بریانی کھانے نہیں آئیگی اگر فوج آئی تو صرف کراچی میں نہیں گجرانوالہ اور لاہور میں بھی آئیگی۔

حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ کراچی کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کیا جا رہا ہے مگر ان کوششوں کے باوجود کئی آْبادیوں اور پولیس پر مسلحہ حملوں کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔

شہر کے کئی علاقوں کے گلیوں میں اب دوبارہ ناکے اور گیٹ لگ گئے ہیں، جو چند سال پہلے ہٹا دیئے گئے تھے، ایک قومیت سے تعلق رکھنے والا شخص دوسری قومیت کی آْبادی میں جانے سے کتراتا ہے۔

اسی بارے میں