کراچی:تشدد، ہلاکتوں کا سلسلہ جاری

کراچی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گزشتہ رات سے اب تک گیارہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

کراچی میں اتوار کو بھی پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا اور شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا ہے جبکہ کچھ علاقوں سے لاشیں بھی ملیں۔

اتوار کو مختلف واقعات میں تیرہ افراد ہلاک ہوئے۔ اس طرح بدھ سترہ اگست سے اب تک فائرنگ اور بوری میں بند لاشیں ملنے کے متعدد واقعات میں مرنے والوں کی تعداد پچاسی ہوگئی ہے جن میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

کراچی میں پولیس پر حملہ، تصاویر

کہانی ایک پہاڑ پر بسے دو خاندانوں کی

کراچی سے ہمارے نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق اتوار کی شام پاک کالونی کے علاقے میں ایک رکشہ ڈرائیور کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ اورنگی ٹاؤن میں بھی فائرنگ کے ایک واقعےمیں ایک شخص ہلاک ہوگیا جبکہ اس علاقے سے ایک نامعلوم شخص کی لاش بھی ملی ہے۔

اس سے پہلے اتوار کی دوپہر کو کراچی کے علاقے ڈاکیارڈ سے بھی ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی۔

دیگر واقعات میں پولیس کے مطابق پاک کالونی کے علاقے لیاری ندی سے ایک بوری میں بند لاش ملی ہے جسے تشدد کے بعد گولیاں مارکر ہلاک کردیا گیا ، لاش کی ابھی تک شناخت نہیں ہوسکی ہے جبکہ اورنگی کے علاقے ایم پی آر کالونی قبرستان کے پاس سے دو نوجوانوں کی لاشیں ملیں ہیں جنہیں پولیس کے مطابق اغوا کر کے قتل کیا گیا ہے۔

دوسری جانب سفاری پارک کے علاقے میں گزشتہ رات فائرنگ سے زخمی ہونے والا شخص ہسپتال میں چل بسا۔ پولیس کے مطابق رات ایک بجے کے قریب سفاری پارک کے سامنے بس اسٹاپ پر کھڑے دوافراد پر ایک کار میں سوار نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس سے وہ دونوں شدید زخمی ہوگئے اور بعد ازاں ان میں سے ایک شخص ہسپتال پہنچ کر ہلاک ہوگیا۔

اس سے پہلے کراچی کے علاقے چینیسر گوٹھ میں دومسلح گروہوں میں تصادم کے ایک واقعے میں فائرنگ کی زد میں آکر دو بچے ہلاک اور ایک بچے زخمی ہوگیا۔ مبینہ ٹاؤن تھانے کے عملے کے مطابق ہلاک ہونے والے بچے ان میں سے ایک گروہ کے افرادکے خاندان کے تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی فائرنگ اور تشدد کے مختلف واقعات میں سات افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے تھے۔

دوسری جانب وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے کراچی میں تاجروں کے ایک وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں باون مشتبہ افراد کوگرفتار کیا گیا ہے اور اڑتالیس گھنٹے میں گرفتار ٹارگٹ کلروں کے اعترافات کی ویڈیو فلمیں ٹی وی پر جاری کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں مرنے والے پانچ افراد ذاتی رنجش کی بناء پر قتل کیے گئے ان کا ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے تعلق نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء پر مشتمل ایک یوتھ فورس قائم کی جائےگی جو جرائم پیشہ افراد کی نشاندہی میں مدد کرے گی۔

اسی بارے میں