پشتو ٹی وی چینل ٹیم پر حملہ

نشتر ہال تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صحافیوں پر یہ حملہ نشتر ہال کے قریب کیا گیا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں مسلح افراد نے نجی پشتو ٹی وی چینل کی گاڑی پر دن دہاڑے فائرنگ کی ہے جبکہ چینل کے بیورو چیف حضرت خان مہمند کو پتھروں سے نشانہ بنایا جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کو دوپہر کے وقت پشاور ہائی کورٹ کی عمارت کے سامنے پیش آیا۔

واقعہ میں زخمی ہونے والے ایک عینی شاہد اور آخبار خیبر کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر نثار محمد خان نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ وہ اے وی ٹی خیبر نیوز کی ٹیم ہمراہ دفتر جا رہے تھے کہ نشتر ہال کی عمارت کے سامنے اچانک ان کی گاڑی پر موٹر سائیکل پر سوار تین مسلح افراد کی طرف سے فائرنگ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں مسلح افراد نے اے وی ٹی خیبر نیوز کے بیورو چیف حضرت خان مہمند کو گاڑی سے گھسیٹ باہر نکالا اور ان کے سر پر بھاری پتھروں سے وار کیے جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے اور انھیں بعد میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں داخل کردیا گیا ہے۔

صحافی نثار محمد خان نے بتایا کہ حملے میں اسسٹنٹ کنٹرولر نیوز وقاص شاہ بھی زخمی ہوئے اور مسلح افراد نے ان کی گاڑی کے دونوں شیشوں کو بھی پتھر مار کر توڑ دیا۔

نثار خان نے الزام لگایا کہ مسلح افراد جس وقت حضرت خان کو پتھروں سے مار رہے تھے عین اس وقت مسلح افراد کے ایک ساتھی ویڈیو فلم بھی بنا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افراد کے ہمراہ ایک اور گاڑی بھی تھی جو پیچھے آرہی تھی اور اس میں بھی مسلح افراد سوار تھے۔

واقعہ کی ایف آئی آر شرقی پولیس سٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلی گئی ہے۔

ادھر پاکستان میں صحافتی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے خیبر نیوز ٹیم پر قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مزمت کی گئی ہے۔ پشاور میں صحافیوں کی تنظیم خیبر یونین آف جرنلسٹس نے اس واقعہ کے خلاف منگل کو پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ چند ہفتے قبل خیبر ٹی وی کی طرف سے صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کے خلاف ایک رپورٹ چلائی گئی تھی جس میں ان پر کرپشن کے الزامات لگائے گئے تھے۔ تاہم بعد میں صوبائی وزیر نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے ان الزامات کی سخت الفاظ میں تردید کی تھی اور چینل انتظامیہ کو کروڑوں روپے کے ہرجانہ کا نوٹس بھی جاری کیا تھا۔

اسی بارے میں