اٹھارہ لاکھ شہری چھبیس سو پولیس اہلکار

Image caption اسلام آباد پولیس کی مجموعی نفری نو ہزار سات سو تیرہ ہے، بنیامین

اسلام آباد پولیس کے سربراہ بنیامین کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کے اٹھارہ لاکھ افراد کی جان ومال کی حفاظت کے لیے چھبیس سو پولیس اہلکار تعینات ہیں اس تناسب سے سات سو شہریوں کے لیے ایک پولیس اہلکار تعینات کیا جاتا ہے۔

سینیٹر طلحہ محمود کی سربراہی میں داخلہ امور کے بارے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد پولیس نے کہا کہ پولیس نفری میں کمی اور گزشتہ پانچ سال کے دوران نئی بھرتیاں نہ ہونے کی وجہ سے دارالحکومت میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

اس وقت اسلام آباد پولیس کی مجموعی نفری نو ہزار سات سو تیرہ ہے جن میں سے چھبیس سو پولیس اہلکار اسلام آباد کے چودہ پولیس سٹیشنوں میں تعینات ہیں جبکہ ٹریفک میں پانچ سو کے قریب اہلکار اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ شہر میں شدت پسندی کی وارداتوں کو روکنے کے لیے بنائے جانے والے انسداد دہشت گردی سکواڈ میں دو سو کے قریب پولیس اہلکار تعینات ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد پولیس کی مجموعی نفری کا بڑا حصہ اہم شخصیات کی سکیورٹی پر مامور ہے۔ ان میں صدر، وزیرِاعظم اور وفاقی وزراء سرفہرست ہیں جبکہ اسلام آباد میں تعینات غیر ملکی سفارت کاروں اور سفارت خانوں کی حفاظت کے لیے فرنٹیئر کانسٹبلری کے علاوہ اسلام آباد پولیس کے اہلکار بھی تعینات ہیں۔

اسلام آباد پولیس کے سربراہ بنیامین نے دعوی کیا کہ پولیس کی نفری میں اضافہ اور نئی بھرتیاں کی جائیں تو وہ شہر کو کرائم فری سٹی بنا دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران بارہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے جن کا تعلق کالعدم تنظیموں تحریکِ طالبان پاکستان کے علاوہ غازی فورس اور الیاس کشمیری گروپ سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ہونے والے شدت پسندوں کے قبضے سے پانچ خودکش جیکٹیں اور ایک ہزار کلو گرام کے قریب آتش گیر مادہ برآمد کیا گیا ہے۔

بنیامین کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں ہونے والے خودکش حملے کے مقدمے کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس میں غیر ملکی ہاتھ کارفرما ہے تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں بتایا۔ واضح رہے کہ مذکورہ یونیورسٹی کے دو طلباء ابھی تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہیں۔

قائمہ کمیٹی نے شہر میں امن وامان کی صورتِ حال پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نہ صرف اپنے فرائض کی ادائیگی احسن طریقے سے ادا نہیں کر رہی بلکہ جھوٹے مقدمات بھی درج کیے جا رہے ہیں۔

طلحہ محمود نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ سے جعلی مقدمات کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔اس کے علاوہ ان پولیس افسران کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں جو گزشتہ پانچ سال سے ایک ہی عہدے پر کام کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں