وزیر اعظم نائن زیرو کیوں نہ گئے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ماضی میں بھی دونوں پارٹیوں کے تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں

پاکستان کے وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے ٹوٹے ہوئے رشتے کو گرہ لگانے آئے تھے مگر ان کی واپسی ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے اس بیان پر ہوئی کہ اگر وزیر اعظم صورتحال پر قابو نہیں پاسکتے تو مستعفیٰ ہوجائیں۔

ایم کیو ایم اپنے گرفتار ملزمان کو چھڑانا چاہتی ہے، پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل کی سیر بین میں گفتگو

وزیرِاعظم کی آمد سے قبل یہ اطلاعات تھیں کہ وہ ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو جائیں گے اور ایم کیو ایم دوبارہ حکومت میں شمولیت کا اعلان کرے گی۔ ان اطلاعات نے اس وجہ سے بھی ضرور پکڑا تھا کیونکہ اس سے پہلے صدر آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کا ٹیلیفون پر رابطہ ہوچکا تھا اور صدر نے الطاف حسین کو حکومت میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دی تھی۔

کراچی میں وزیرِاعظم سے ایم کیو ایم کے وفد کی ملاقات متوقع تھی مگر وزیرِاعظم انتظار کرتے رہے اور ایم کیو ایم کا وفد ملاقات کے لیے نہیں پہنچا، اس کے بعد جب سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا تو صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی اور وزیرِاعظم کو لینے کے دینے پڑ گئے۔

کابینہ کے اجلاس کا ابھی کوئی اعلامیے جاری نہیں ہوا تھا مگر نجی نشریاتی اداروں نے اپنے ذرائع سے بریکنگ نیوز کے طور پر یہ خبریں نشر کرنا شروع کردیں کہ سینئر صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے ایم کیو ایم پر الزامات کی بارش کردی اور انہوں نے وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک پر بھی تنقید کی اور انہیں یاد دہانی کرائی ہے کہ انہیں پیپلز پارٹی کے اراکان نے سینٹر منتخب کیا ہے۔

شام کو صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب ایم کیو ایم کے پارلیمانی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے پریس کانفرنس کر کے حکمران جماعت اور ایم کیو ایم میں بڑھتی ہوئی قربتوں کو دوریوں میں تبدیل کردیا، اس پریس کانفرنس میں ایک مرتبہ پھر حکومتی شخصیات پر امن کمیٹی کی سرپرستی کے الزامات عائد کیے گئے۔

شام تک صوبائی کابینہ کراچی مسئلے کے حل کا کوئی فیصلہ نہیں کرسکی تھی جس کے بعد افطار کے بعد دوبارہ صوبائی وزراء وزیرِاعظم کی سربراہی میں سر جوڑ کے بیٹھے اور ایک مرتبہ پھر متاثرہ علاقوں میں سرجیکل آپریشن کا فیصلہ کیاگیا، جس کا اعلان اس سے پہلے بھی وفاقی وزیرِداخلہ رحمان ملک کئی بار کرچکے ہیں۔

ایم کیو ایم کی حکومت میں واپسی کے بجائے صورتحال سنگین کیوں ہوئی، اس حوالے سے حکومت اور ایم کیو ایم دونوں خاموش ہیں، مگر اخبارات نے اس کے دو اسباب ظاہر کیے ہیں۔

بعض اخبارات کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کمشنری نظام کا مکمل خاتمہ اور بلدیاتی نظام سنہ دو ہزار ایک کا نفاذ بغیر کسی ترمیم کے چاہتی ہے، جس سے کراچی پر اس کی سیاسی اور انتظامی گرفت مضبوط ہو جائے گی مگر حکمران پیپلز پارٹی اس میں اہم ترامیم کرنا چاہتی ہے۔

ایم کیو ایم کی حکومت سے علیحدگی کے بعد حکمران جماعت نے سنہ دو ہزار ایک کے بلدیاتی نظام کو منسوخ اور کمشنری نظام کو بحال کردیا تھا اور اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ یہ عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا مگر بعد میں گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کی واپسی اور مذاکرات بحال ہونے کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا جس سے سندھ میں شدید رد عمل دیکھنے میں آیا اور دو پرزور ہڑتالیں بھی کی گئیں۔

صوبائی وزراء نے وزیرِاعظم کے سامنے یہ موقف اختیار کیا کہ اگر پرویز مشرف کے متعارف کرائے گئے بلدیاتی نظام کو جوں کا توں برقرار رکھا گیا تو اس سے پارٹی کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے۔

بعض دیگر اخبارات لکھتے ہیں کہ تمام معاملات طے پائے گئے تھے مگر ایم کیو ایم کا مطالبہ تھا کہ پچھلے دنوں ان کے گرفتار کیے گئے چار اہم کارکنوں کو رہا کیا جائے، جن کے بارے میں حکومتی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ان کی جوائنٹ انٹروگیشن ہوچکی ہے اب معاملات عدالت میں ہیں جس کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہیں۔

یہ گرفتاریاں چکرا گوٹھ سے عمل میں لائی گئی تھیں، جہاں پولیس کی بس پر حملے میں چار اہلکار ہلاک اور بیس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

بعد میں ایک نیوز چینل نے چکرا گوٹھ میں فائرنگ کی ویڈیو بھی ٹیلی کاسٹ کی تھی جس میں سٹی وارڈن پولیس کی کیپ اور ڈریس پہنے ہوئے نوجوانوں کو فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، یہ ویڈو دو تین بار چلنے کے بعد اس نیوز چینل کی کراچی میں نشریات ایک روز کے لیے معطل ہوگئی تھی۔

وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی ناراض اتحادیوں کو منانے آئے تھے مگر ان کی واپسی تک ناراضگیاں اور شدت اختیار کرچکی تھیں اور ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کا یہ بیان سامنے آیا کہ وزیرِاعظم مہاجروں کا قتل عام بند نہیں کرواسکتے تو مستعفی ہوجائیں۔

اسی بارے میں