شمالی وزیرستان: مبینہ جاسوس ہلاک

Image caption شہری کی شناخت ان کے جیب میں پائے گئے کاغذات سے ہوئی، سرکاری اہلکار

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکہ کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کرنے کے الزام میں ایک افغان باشندے کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔

شمالی وزیرستان میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ بدھ کی صبح شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں شہر سے پانچ کلومیٹر دور دتہ خیل روڈ پر ایک پہاڑی نالے سے ایک لاش ملی ہے جسے فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔

اہلکار کا کہنا ہے کہ لاش افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایک شہری کی ہے جس کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہے اور اس کے جسم اور سر میں کئی گولیاں ماری گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ افغان شہری کی شناخت ان کے جیب میں پائے گئے کاغذات سے ہوئی ہے۔

اہلکار کے مطابق لاش کے قریب سے کابل بینک کا ایک اے ٹی ایم کارڈ ملا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو افغانستان کے کسی علاقے سے مسلح شدت پسندوں نے اغواء کیا تھا۔

اہلکار نے بتایا کہ لاش کے قریب سے ایک خط بھی ملا ہے جس میں بتایاگیا ہے کہ یہ جاسوس تھا اور افغانستان میں امریکہ کے لیے جاسوسی کا کام کرتا تھا۔

خط کے مطابق اگر آئندہ بھی کسی نے بھی امریکہ کے لیے جاسوسی کی تو اس کا بھی یہی حشر ہوگا۔

یاد رہے کہ جس علاقے سے یہ لاش ملی ہے اس علاقے میں گزشتہ ایک عرصے سے امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں درجنوں افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے جن میں مقامی اور افغان باشندہ شامل بتائے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں