کراچی آپریشن کامیاب !

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اچھی بات تو یہ ہے کہ کراچی میں تئیس اگست کی رات سے شروع ہونے والا آپریشن عام آدمی کے ساتھ ساتھ بھتہ خوروں، دہشت گردوں، قاتلوں کو بھی اعتماد میں لے کر کیا جا رہا ہے۔

پہلے تو صوبائی وزیرِ داخلہ نے ہی خبردار کیا کہ کراچی میں نو مقامات پر آپریشن شروع کیا جا رہا ہے۔ پھر میڈیا نے ان نو مقامات کی فہرست بھی جاری کردی۔ پھر ایک سرکاری پریس ریلیز میں مجرموں کو انتباہ کیا گیا کہ وہ کراچی چھوڑ دیں ورنہ خیریت نہیں ہے۔

پھرسوچا گیا کہ مجرم بھی آخر انسان ہیں اور عید بھی قریب ہے ایسے میں انہیں شہر، کاروبار اورگھر بار چھوڑنے کی وارننگ دینا مناسب نہیں ۔لہذا پریس ریلیز میں یہ ترمیم کی گئی کہ مجرم بھلے کراچی میں ہی رہیں لیکن اپنی سرگرمیوں سے فوراً باز آجائیں ورنہ ان کے ساتھ عبرت ناک سلوک کیا جائے گا۔

اس رعایت پر مجرموں نے حکومت اور خدا کا شکر ادا کیا۔ اب وہ کراچی سے باہر جانے والی بسوں اور ٹرینوں کے ٹکٹ واپس کررہے ہیں، کوئٹہ، پشاور ، دوبئی، کیپ ٹاؤن ، بنکاک اور کوالالمپور کی فلائٹ بکنگ منسوخ کروا رہے ہیں، اسلحہ ندی نالوں میں پھینک رہے ہیں یا زمین میں دبا رہے ہیں یا ڈبے میں بند کرکے ان پرآم یا عید گفٹ لکھ کر کورئیررز اور کیریرز کے حوالے کررہے ہیں۔

جب سے آپریشن کا اعلان ہوا ہے مارکیٹ میں بوری کی قیمت میں پانچ سے نو روپے کی کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔

گنجان اندرونی علاقوں سے زیادہ بڑی بڑی شاہراہوں پر پولیس اور رینجرز کی نقل و حرکت اور اچانک چیکنگ بڑھ گئی ہے۔ شناختی کارڈ اور چہرے بغور دیکھے جارہے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کون کون دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ یا بھتہ خوری کے شعبے یا پیشے سے وابستہ تھا یا ہے۔

کل رات سے ایک نئی سرکاری اصطلاح بھی سامنے آئی ہے ’سرجیکل آپریشن ‘ اس کا مطلب تو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ کھلے گا لیکن نجی اسپتالوں کے مالکان ، آلاتِ جراحی بیچنے والے کاروباری اور ہڈی جوڑ پہلوان جانے کیوں پرامید ہوچلے ہیں۔

ڈاکٹرز، سرجنز اور اینستھیسسٹس کے چہروں پر پہلے سے زیادہ رونق محسوس ہو رہی ہے۔ نیم طبی عملہ بھی چوکس چوکس لگ رہا ہے ۔جانے کب، کس سے، کہاں پہنچنے کا حکم مل جائے۔

حکومتی وارننگ، سرجیکل آپریشن اور اچانک چیکنگ کے مجموعی اثرات بھی سامنے آنے شروع ہوگئے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ نہ ہونے کے برابر ہوگئی ہے کیونکہ آپریشن سے پہلے سو کے لگ بھگ ٹارگٹ کلرز پکڑے گئے تھے۔

آپریشن شروع ہونے کے بعد مزید گیارہ پر گرفت کر لی گئی۔ ان میں سے چار کو چادریں اوڑھا کر میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک نے تیرہ افراد کو قتل کرنے کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔ لگتا ہے باقی ایک سو دس بھی کر ہی لیں گے۔

مختلف علاقوں سے دو دن میں دو درجن غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد ہوگیا ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے کئی مقامات پر خود جا کر آپریشن دیکھا ہے اور صوبائی وزیرِداخلہ منظور وسان کو بھی مصالحتی و محبتی خواب آنے بند ہوگئے ہیں ۔اب وہ کاؤ بوائے ہیٹ پہن کر بطور سمارٹ و پراعتماد شیرف میڈیا کا سامنا کررہے ہیں اور وزیرِ اعظم کے ساتھ ڈائرکٹ ڈائلنگ پر بھی ہیں۔

بھتہ خوری میں بھی اچھی خاصی کمی آئی ہے۔ دکانداروں کو اب جو پرچیاں موصول ہورہی ہیں وہ بھتے کی نہیں بلکہ ان میں صدقہ، فطرانہ، نمازِ تراویح کے انتظامات اور محلے کی صفائی جیسے کارِ خیر میں ہاتھ بٹانے اور مالی اعانت کی درخواست کی جاتی ہے۔ دکاندار انتہائی خوشدلی کے ساتھ حسبِ توفیق مدد کرتے ہیں اور دو یا تین رکنی چندہ ٹیم مسکراتے ہوئے شکریہ ادا کرتی آگے ہو لیتی ہے۔

یہی ماحول دفاتر، فیکٹریوں اور شاپنگ مالز میں بھی ہے۔ پہلے کے برعکس اب نہ تو دینے والے کے ماتھے پر ٹینشن اور نہ لینے والوں کے چہرے پر خفگی۔ سب کچھ اس لئے بھی خوش اسلوبی سے ہورہا ہے کیونکہ چندے کے خواہش مند سماجی کارکن ہر ایک سے اس کی استطاعت سے زیادہ طلب نہیں کررہے۔

انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ کس کاروباری کے اکاؤنٹ میں کتنے پیسے ہیں، کتنی گاڑیاں ہیں، بچوں کی تعداد کتنی ہے، کتنے سکول جاتے ہیں اور کون کون بیرونِ ملک ہے۔ حیل و حجت کی صورت میں یہ سماجی کارکن مذکورہ معلومات عندالطلب دستاویزی ثبوت کے ساتھ پیش کرکے شرمندہ بھی کردیتے ہیں۔

آپریشن سے پہلے ان باخبروں کے ہاتھ میں عموماً ریوالور یا طمنچہ اور چہرے پر ٹیڑھا پن نظر آجاتا تھا لیکن جب سے حکومت نے وارننگ دی ہے ریوالور اور طمنچہ نیفے میں اڑس لیا گیا ہے اور بھولپن بحال ہوگیا ہے ۔

ایک اچھی بات یہ ہے کہ پہلے ہر ایک کو بلا امتیازِ مذہب و ملت و نسل بھتہ دینے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ لیکن آپریشن کے بعد ہندو کاروباریوں سے عید کا فطرہ نہیں لیا جارہا بلکہ یہ درخواست کی جاتی ہے کہ آپ دسہرہ سمجھ کے دے دیں۔ اسی طرح عیسائی دکانداروں سے بنتی کی جاتی ہے کہ سمجھ لیں کہ جمعتہ الوداع گویا آپ کا ہی گڈ فرائڈے ہے۔۔۔۔

مجموعی طور پر ماحول خاصا بہتر ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومت اس احساسِ جرم سے نجات پاگئی ہے کہ وہ کچھ نہیں کر پا رہی۔ پولیس اور رینجرز کو ایک اچھی پیشہ ورانہ مصروفیت ہاتھ آگئی ہے۔ زیادہ تر ٹارگٹ کلرز تو پکڑ لیے گئے ہیں اور بقیہ بچی ہوئی بوریوں پر اعتکاف میں بیٹھ گئے ہیں۔

بھتہ خور سماج سدھاری ہو گئے ہیں۔ایدھی اور چھیپا ایمبولینسوں کو ریپیرنگ اور سروس کروانے کا وقت مل گیا ہے اور عام شہری بھی پہلے کی طرح خوش ہے ۔اور کیوں نا ہو ؟ آپشن ہی کیا ہے ؟

اسی بارے میں