کراچی: ’سرجیکل آپریشن کا آغاز‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومتی دعووں کے باوجود منگل کو بھی شہر میں چھ افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیرِ داخلہ منظور وسان کا کہنا ہے کہ کراچی میں امن و امان قائم کرنے کے لیے آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے سیاسی جماعتوں میں آپریشن پر اتفاق نہیں تھا مگر اب تمام جماعتیں اس کی حامی ہیں جس کے بعد آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کے مثبت نتائج نکلیں گے۔

کراچی میں سرجیکل آپریشن کا فیصلہ

انہوں نے تسلیم کیا کہ حکومتی اعلانات کے بعد کچھ ملزم روپوش ہو گئے ہوں گے مگر کچھ ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا اور ان کی نشاندہی پر دیگر ملزمان کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ دو دنوں میں گیارہ ٹارگٹ کلرز گرفتار کیے گئے ہیں جو ایک بڑی کامیابی ہے۔

دوسری جانب کراچی میں رینجرز نے گلش معمار، نارتھ ناظم آباد، کٹی پہاڑی، قصبہ کالونی اور محمد پور میں کارروائی کر کے آٹھ کے قریب افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

اس سے پہلے رینجزز اہلکار لیاری کے علاقے میں کارروائی کے لیے پہنچے مگر مقامی افراد نے ٹائر جلا کر احتجاج کیا جس کی وجہ سے کارروائی نہیں ہو سکی تھی۔

کراچی میں ہفتے بھر جاری رہنے والی قتل و غارت گری کی تازہ لہر کے بعد رات گئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کئی علاقوں میں تلاشی اور گرفتاریاں کی ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق تلاشی اور گرفتاریوں کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا جس کے دوران مختلف علاقوں میں پولیس اور رینجرز کے دستے مصروف دکھائی دیے۔ وفاقی وزیرِداخلہ رحمان ملک اور شہر کی پولیس کے اعلیٰ حکام رات گئے تک ان کارروائیوں کی براہِ راست نگرانی کرتے رہے۔

اس موقع پر رحمان ملک نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ’یہ آپریشن ایریا وائز نہیں ہو رہا جس جگہ بھی کریمنل ہوں وہ لیاری میں یا جس جگہ رپورٹ ہو گی وہیں جائیں گے۔ آج ہم یہاں آئے ہیں، لوگ پکڑے گئے ہیں جس جگہ بھی ہماری انٹیلجنیس ہو گی وہاں پہنچیں گے اور ایکشن لیں گے میں عوام کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی یہ سمجھے کہ اے، بی، سی، ڈی یا ای ایریا میں، جہاں پر ہماری انفارمیشن ہے، ہم وہیں جائیں گے۔‘

اس سے پہلے حکومت سندھ نے اعلان کیا تھا کہ بھتہ خوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو امن وامان کی صورتِ حال خراب کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور وفاقی وزیرِداخلہ رحمان ملک کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے اجلاس میں صوبہ سندھ باالخصوص کراچی میں امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تھا۔ جس کے بعد جاری علامیے کے مطابق پولیس کو ہدایت کی گئی تھی کہ تاجروں اور صنعت کاروں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

شر پسندوں اور بھتہ خوروں کو وارننگ دی گئی تھی کہ فوری طور پر کراچی چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں۔ لشکرِ جھنگوی اور سپاہ صحابہ جیسی کالعدم تنظیموں کو بھی تنبیہ کی گئی تھی کہ ہر طرح کی سرگرمیاں ختم کر کے اپنے دفاتر بند کر دیں۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں فیصلہ بھی کیا گیا کہ بین الصوبائی روٹس پر چلنے والی اور دیگر صوبوں سے کراچی آنے والی بسوں کی چیکنگ کی جائے گی جو کہ مختلف طریقوں سے اسلحہ، بارود، منشیات اور دیگر ممنوع اشیاء کراچی لاتے ہیں۔

اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ کراچی میں داخلے کے راستوں کو کم کیا جا رہا ہے، تاکہ مجرموں، شرپسندوں اور ملک دشمن قوتوں کی سرگرمیوں کو محدود کیا جائے۔ لیکن ان تمام تر دعووں کے باوجود منگل کو بھی شہر میں چھ افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

اس سے پہلے سندھ کے سینئر وزیر ذوالفقار مرزا کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑی تو کراچی میں امن وامان کی بحالی کے لیے فوج کو بلوایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے سب سے بڑے اور ملک کے تجارتی مرکز کراچی میں امن و امان کی صورتِ حال میں بہتری کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کا حالیہ دورہ کراچی بھی پاکستانی عوام کو کوئی خوشخبری نہیں دے سکا۔ ایسے میں پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت، سپریم کورٹ کراچی میں امن وامان کی صورتِ حال پر لیے گئے از خود نوٹس کے تحت مقدمے کی سماعت بدھ سے شروع کر رہی ہے۔

اسی بارے میں