’مونس الٰہی کو رقم منتقل ہوئی‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تحقیقات کے مطابق مونس الہی کے اکاونٹ سے پندرہ کروڑ روپے ایک برطانوی بینک میں منتقل کیے گئے۔

نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ یعنی این آئی سی ایل میں زمین کی خریداری میں مبینہ طور پر اربوں روپے کے گھپلوں کے مقدمے کی تحقیقات کرنے والے افسر ظفر قریشی نے کہا ہے کہ مونس الٰہی کے اکاونٹ میں بائیس کروڑ روپے کی رقم منتقل ہونے کے شواہد مل چکے ہیں۔

جمعرات کو تجارت سے متعلق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ سینئیر وفاقی وزیر چودہری پرویز الٰہی کے صاحبزادے اور پنجاب اسمبلی کے رکن مونس الٰہی کے اکاونٹ سے پندرہ کروڑ روپے ایک برطانوی بینک میں منتقل کیےگئے ہیں جن کی تفتیش جاری ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ لاہور میں جائیداد کی خریداری میں ہونے والی ایک ارب ساٹھ کروڑ روپے کی بدعنوانی کی رقم برآمد ہوچکی ہے جبکہ لاہور ائرپورٹ کے قریب 56 کروڑ روپے میں خریدی گئی اراضی میں سے پندرہ کروڑ روپے برآمد کیے جاچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ باقی ماندہ رقم کی برآمدگی کے لیے تفتیش جاری ہے۔

یاد رہے کہ این آئی سی ایل وزارت تجارت کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔

ظفر قریشی کا کہنا تھا کہ کراچی میں خریدی گئی زمین کے لیے منتقل کی گئی 33 کروڑ روپے کی رقم کو سیل کردیا گیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ این آئی سی ایل میں ملوث ملزمان کے وکیل بہت بااثر ہیں لہٰذا اس کے سدباب کے لیے اُنہوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو ایک خط لکھا ہے کہ وہ کسی بیرسٹر کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ اس مقدمے کی بہتر انداز میں پیروی کی جاسکے۔

ظفر قریشی کا کہنا تھا کہ وہ اگلے ماہ ریٹائر ہو رہے ہیں اور ایف آئی اے میں تعینات لیگل ٹیم اتنے اہم مقدمے کو ہینڈل نہیں کرسکتی۔ اُنہوں نے کہا کہ اس مقدمے کی تفتیش کرنے کی پاداش میں اُنہیں تین بار ٹرانسفر اور چار مرتبہ معطل کیا گیا۔

سپریم کورٹ سے ظفر قریشی کی معطلی کالعدم

حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے پاکستان مسلم لیگ قاف کے رکن اور قائمہ کمیٹی کے سربراہ خرم دستگیر نے حکومت سے کہا کہ وہ اس ضمن میں ظفر قریشی کو وکلاء کی ٹیم فراہم کریں۔

این آئی سی ایل کے سکینڈل میں ایف آئی اے حکام کے مطابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر مخدوم امین فہیم اور اُن کے بچوں کے اکاؤنٹ میں بھی چار کروڑ روپے کی رقم منتقل ہوئی تھی تاہم یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع کرادی گئی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان سےکنٹینرز کے ذریعےافغانستان میں نیٹو فورسز کو سپلائی کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے۔ متعلقہ حکام کا کہنا تھا کہ سابق حکومت اور ایساف اور نیٹو فورسز کے دمیان معاہدے کی ایک یاداشت پر دستخط ہوئے تھے جبکہ اس میں وزارت تجارت کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔

کمیٹی کے اراکین کا کہنا تھا کہ ان کنٹینرز کے سڑکوں پر چلنے کے باعث سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ بُری طرح متاثر ہوا ہے۔کمیٹی نے حکومت سے کہا کہ وہ نیٹو اور ایساف سے ایک سو بائیس ارب روپے لیکر دے تاکہ ان سڑکوں کی مرمت کی جاسکے۔

کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ حکومت ایساف اور نیٹو فورسز کے ساتھ ہونے والے ایم او یوز کو قانونی شکل دے۔

اسی بارے میں