تربت سے دو مزید لاشیں برآمد

فائل فوٹو، تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچ قوم پرستوں کے مطابق گزشتہ سال جولائی سے لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا

بلوچستان کے علاقے تربت سےمزید دو لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہے۔ ان میں ایک لاش صوبائی وزیر ظہور بلیدی کے رشتہ دار کی ہے۔ دوسری جانب گزشتہ رات ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین تک پہنچ گئی۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق جمعرات کے روز تربت کے علاقے میرانی ڈیم کے قریب سے مقامی لیویز کوایک نامعلوم شخص کی مسخ شدہ لاش ملی جنسے شناخت کے لیے سول ہسپتال تربت پہنچایاگیا۔ جہاں اس کی شناخت رحیم بلیدی کے نام سے ہوئی۔

مسخ شدہ لاشیں، غم زدہ لواحقین

’بلوچستان میں قتل کا نوٹس لیں‘

رحیم بلیدی صوبائی وزیر گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی ظہور بلیدی کے کزن ہیں۔ نیشنل پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات جان محمد بلیدی کے مطابق رحیم بلیدی تیرہ اور چودہ اگست کے درمیانی شب تربت سے لاپتہ ہوئے تھے اور وہ نیشنل پارٹی کے کارکن تھے۔

نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اورسنیٹر ڈاکٹرمالک بلوچ نے رحیم بلیدی کی ہلاکت کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایف سی والوں نے مند کے ایک ہوٹل پر بیٹھے ہوئے چودہ افراد گزشتہ روز حراست میں لیاہے۔

ڈاکٹرمالک نے کہا کہ جب تک لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں پھنکنے کاسلسلہ بند نہیں ہوگا اس وقت تک بلوچ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال نہیں ہوسکتاہے۔

دوسری جانب تریب کے علاقے تمپ سے زاہد بلوچ ولد حاجی رحمت اللہ کی لاش ملی ہیں۔ مقامی صحافیوں کے مطابق زاہد بلوچ کو نامعلوم افراد نے بیس روزقبل اغواء کیاتھا۔

اسی طرح مندسے نامعلوم افراد نے بلوچ ری پبلکن پارٹی کے علاقائی رہنماء غلام خالد کو دیگر نوساتھیوں سمیت اغواء کیاہے پولیس نے اغواء کامقدمہ درج کرلیاہے لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور نہ ہی کسی تنظیم نے اغواء کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

بلوچ قوم پرستوں کے مطابق گزشتہ سال جولائی سے لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور اب تک صوبے کے مختلف اضلاع سے دوسوسے زاہد لاشیں مل چکی ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز انسپیکٹرجنرل فرنٹئیرکور عبیداللہ خان نے کوئٹہ میں دیے گئے افطار کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے لاپتہ افراد مسخ شدہ لاشیں ملنے جیسے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور واضع کیاتھا کہ لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں پھنکنے میں فرنٹئیرکور کا کوئی کردار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرکوئی کسی جرم میں ملوث بھی ہو تو انہیں قانون کےمطابق عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے جبکہ کوئی بھی ادارہ پاکستان کے آئین اور قانون سے بالاترنہیں ہے۔

ادھر بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان میرک بلوچ نے ایک نامعلو م مقام سے ٹیلی فون کرکے بی بی سی کو بتایاکہ سیکورٹی فورسزنے ڈیگاری اور مارواڑ کے علاقے میں بے گناہ بلوچوں کے خلاف آپریشن شروع کرکے تیس چرواہوں کوگرفتارکیا ہے جبکہ بلوچ مذامت کاروں کےساتھ جھڑپ میں سیکورٹی فورسز کے چار ہلکار ہلاک ہوئے ہیں تاہم کوئٹہ میں ایف سی کے ترجمان نےاس دعوے کی تردید کی ہے۔

دوسری طرف کوئٹہ کے جی او آر کالونی میں بدھ کی رات کو نامعلوم افراد کی فائرنگ ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین تک پہنچ گئی۔ پولیس کےمطابق ہلاک ہونے والوں کاتعلق سندھ سے ہےاور بلوچ نیشنلسٹ لبریشن آرمی نامی تنظیم کے ترجمان مزارے بلوچ نے اسکی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اسی بارے میں