’جاؤ نیپا سے آؤ چھیپا سے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صورتِ حال کی منظر کشی کرنے والے ان جملوں میں شاعروں کے نام بھی استعمال کیے گئے ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں تشدد کی حالیہ لہر کے دوران کئی عوامی ضرب المثل سامنے آئی ہیں جن میں شہر کی صورتِ حال پر ہلکے پھلکے انداز میں تنقید کی گئی ہے۔

یہ جملے موبائل پیغامات کے ذریعے پھیلتے ہیں اور سنگین صورتِ حال کے باوجود لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیتے ہیں۔

گلشنِِ اقبال کے علاقے نیپا پر فائرنگ کا سلسلہ معمول ہے اور یہاں اکثر منی بسوں پر فائرنگ کے واقعات بھی پیش آچکے ہیں۔ اسی لیے اب ایس ایم ایس میں کہا جا رہا ہے ’جاؤ نیپا سے، آؤ چھیپا سے‘۔

’چھیپا‘ ایک خیراتی ادارہ ہے جو شہر میں مستحقین کو ایمبولینس سروس فراہم کرتا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں اس ادارے نے تیزی کے ساتھ ترقی حاصل کی ہے۔

صورتِ حال کی منظر کشی کرنے والے ان جملوں میں شاعروں کے نام بھی استعمال کیے گئے ہیں۔ جیسے احمد فراز کے نام سے شعروں کی پیروڈی کا پورا سلسلہ موجود ہے۔ ان میں ایک یہ بھی ہے۔

’ کراچی کے حالت تو اتنے خراب ہیں فراز

جو گھر پہنچ گیا وہ سکندر

اور جو نہ پہنچ سکا وہ بوری کے اندر‘

بالی ووڈ کی فلم دبنگ نے پاکستان میں بھی مقبولیت حاصل کی، اور اس کے کئی ڈائیلاگ لوگوں کی زبانی سننے کو ملتے ہیں۔ مگر ان میں ایک ڈائیلاگ کراچی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔

فلم میں سلمان خان سے مخاطب ہوکر سناکشی سنھا کہتی ہیں ’صاحب تھپڑ سے نہیں پیار سے ڈر لگتا ہے‘۔ تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ اس ڈائیلاگ نے کراچی میں یہ شکل اختیار کی ’صاحب گولی سے نہیں بوری سے ڈر لگتا ہے‘۔

اس سے پہلے نوے کی دہائی میں جب شہر میں پرتشدد واقعات شدت اختیار کر گئے تھے تو اس وقت بھی کچھ شاعروں کے قلم نے جنبش کھائی تھی۔ ان میں سے ایک شعر آج بھی مقبول ہے۔

’دیکھ کر کراچی کے حالات کتے نے کتے سے کہا

بھاگ جا ورنہ انسان کی موت مارا جائے گا‘۔

اسی بارے میں