کوہستان طغیانی: ہلاکتوں کی تعداد اکتالیس

Image caption طغیانی کے نتیجے میں پانی کے ریلے میں پینسٹھ افراد بہہ گئے تھے

پاکستان کے شمالی علاقے کوہستان میں حکام کا کہنا ہے کہ طوفانی بارشوں کے بعد نالے میں طغیانی آنے کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 41 ہوگئی ہے۔

کوہستان کے ڈپٹی کمشنر امتیاز حسین شاہ کا کہنا ہے کہ جمعہ کو مزید چھ لاشیں برآمد کی گئی ہیں جبکہ اب بھی 25 سے 30 افراد لاپتہ ہیں اور ان کی تلاش جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج کے دو ہیلی کاپٹر امدادی کاروائیوں میں حصہ لینے کے لیے متاثرہ علاقے میں ہیں۔

ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا کہ کوہستان کی تحصیل کندیاں کے علاقے گبرال میں بدھ کی رات شدید بارشوں کی وجہ سے تودے گرے اور نالے میں طغیانی آئی تھی جس کے نتیجے میں سب سے زیادہ تباہی ریچاؤ گاؤں میں ہوئی۔

ڈپٹی کمشنر امتیاز حسین شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی اندازے کے مطابق اس گاؤں میں 25 سے30 گھر پانی میں بہہ گئے جبکہ 65 سے 70 افراد بھی پانی کے ریلے کے نذر ہوگئے۔

ان کا کہنا ہے کہ اب تک مختلف مقامات سے 41 لاشیں نکالی جاچکی ہیں اور مرنے والوں میں بچے عورتیں مرد سبھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی آبادی کے مطابق 25 سے 30 افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش جارہی ہے۔

تاہم ڈپٹی کشمنر کا کہنا ہے کہ حتمی نقصان کے بارے میں فی الوقت کچھ کہنا مشکل ہے اور جانی اور مالی نقصان کا تخیمہ لگانے کے لیے محمکہ مال کی ایک ٹیم علاقے میں روانہ کردگئی ہے اور ان کے واپسی پر ہی صحیح صورت حال کا اندازہ ہوسکتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گبرال ایک دورافتادہ علاقہ ہے اور کوہستان کے ضلعی ہیڈ کوارٹر سے چار پانچ دن کی مسا فت پر ہے اور فوری امداد ہیلی کاپڑ کے ذریعے ہی اس علاقے میں پہنچائی جاسکتی ہے۔

کوہستان کے ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فوج نے جمعرات کی شام کو امدادی کارروائیوں میں مدد دینے کے لیے دو ہیلی کاپٹر بھی فراہم کیے۔

انھوں نے کہا کہ جمعہ سے ایک ہیلی کاپٹرامدادی کارروائیوں کی نگرانی کے لیے متاثرہ علاقے میں موجود ہے جبکہ دوسرے ہیلی کاپڑ کے ذریعے کھانے پینے کی چیزیں،ادویات اور دیگر امدادی سامان اور ڈاکٹروں کی ٹیم علاقے میں روانہ کردی گئی ہے۔

اسی بارے میں