کراچی: ’ایک ماہ میں تین سو افراد قتل‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

حکومتِ سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران کراچی میں تین سو افراد کو قتل کیا گیا جبکہ ان واقعات کے مقدمات درج کرنے کے علاوہ نقص امن کے بھی پانچ سو مقدمات درج کیے گئے۔

یہ بات اس رپورٹ میں ہے جو ایڈووکیٹ جنرل سندھ فتح ملک نے جمعہ کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کراچی میں امن وامان کی صورت حال سے متعلق از خودنوٹس کی سماعت کر رہی ہے۔

کراچی میں امن وامان کی صورت حال سے متعلق صوبائی حکومت کی جانب سے پیش گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی ہے کہ وہ خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کے ساتھ ملاقات کر کے جامع رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔

عدالت کو سندھ حکومت نے کہا ہے کہ کراچی کے مسئلے کا حل عدلیہ کے پاس نہیں ہے۔

سندھ حکومت کی جانب سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران کراچی میں تشدد اور ٹارگٹ کلنگ کے دوران ہلاک ہونے والوں اور اس ضمن میں درج ہونے والے مقدمات کی تفصیلات عدالت میں پیش کی گئیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری میں کون سے گروہ ملوث ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اس رپورٹ میں خفیہ اداروں جن میں آئی ایس آئی اور ایم آئی سے بھی تفصیلات نہیں لی گئیں اور یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے جیسے خفیہ ادارے ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ نہیں کرتے۔

اُنہوں نے کہا کہ عدالت انتیس اگست سے اس از خودنوٹس کی سماعت کراچی میں کرے گی کیونکہ عوام نے کیس کے نتائج پر نظریں جما رکھی ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ عدالت کو عید کی چھٹیوں کے دوران بھی اس از خودنوٹس کی سماعت کرنا پڑی تو اس سے دریغ نہیں کرے گی۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ ایک صوبائی معاملہ ہے اس لیے اس ضمن میں مکمل معلومات دستیاب نہیں ہوسکیں۔

بینچ میں شامل جسٹس غلام ربانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ ٹارگٹ کلنگ میں کون سے گروپ ملوث ہیں لیکن اُن کے نام منظرِعام پر نہیں لائے جا رہے۔

سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وہ عدالت کو اس معاملے پر چیمبر میں بریفنگ دینے کو تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قانون نافد کرنے والے اداروں نے ایک ٹارگٹ کلر کو گرفتار کیا تھا جس نے ایک سو افراد کو قتل کیا تھا لیکن عدالت نے اُسے رہا کر دیا۔

اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ عدلیہ کی نہیں بلکہ تحقیقاتی اداروں اور استغاثہ کی ناکامی ہے اور عدالت عدم ثبوت کی بنا پر کیسے کسی شخص کو سزا دے سکتی ہے۔

سندھ حکومت کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ کا کہنا تھا ’کوئی حکومت کراچی کے حالات دنوں میں ٹھیک نہیں کرسکتی اور اس میں تریسٹھ سال کی کوتاہیاں بھی شامل ہیں۔‘

حفیظ پیرزادہ نے کہا کہ کراچی میں فوج بلانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حکومت صوبے میں آرٹیکل نو نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے تو پھر اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس طارق پرویز کا کہنا تھا کہ اگر عدلیہ کراچی کا مسئلہ حل نہیں کرسکتی تو کم از کم علاج تو بتا سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کو بچانا ہے تو کراچی کے حالات کو ٹھیک کرنا ہوگا اور شہر میں ایک دن کی ہڑتال سے ملکی معیشت کو پچیس ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

سماعت کے دوران اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی کی جانب سے اس از خودنوٹس میں فریق بننے کی عدالت بھی عدالت میں پیش کی گئی اس سے پہلے ایم کیو ایم نے بھی اس مقدمے میں فریق بننے کے لیے درخواست دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

عدالت نے کراچی میں ایمرجنسی کے نفاذ اور فوج بلانے سے متعلق دائر درخواستوں پر بھی نوٹس جاری کردیے۔

اسی بارے میں