سرکاری اہلکار کے گھر سے شدت پسند گرفتار

Image caption ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ وہ نمازِ جمعہ کے وقت محتلف مساجد کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

اسلام آباد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک سرکاری اہلکار کے گھر پر چھاپہ مار کر وہاں سے تین شدت پسندوں کو گرفتار کرنے اور اُن کے قبضے سے خودکش جیکٹیں، آتش گیر مادہ اور غیر ملکی کرنسی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ وہ نمازِ جمعہ کے وقت محتلف مساجد کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

اسلام آباد پولیس کے سربراہ بنیامین نے ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ گرفتار ہونے والے ان مبینہ شدت پسندوں نے وزارتِ داخلہ میں تعینات ایک نائب قاصد سردار علی خان خٹک کے گھر پر پناہ لے رکھی تھی۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ کارروائی خفیہ اداروں کی رپورٹ پر کی گئی ہے۔ آئی جی کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران سردار علی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سردار علی کا تعلق پشاور سے ہے اور وہ گُزشتہ دو سال سے چھٹیوں پر ہے۔

گرفتار ہونے والے افراد کا کسی شدت پسند تنظیم سے تعلق کے بارے میں بنیامین نے کچھ بتانے سے گُریز کیا اور کہا کہ اس معاملے میں چھان بین کی جارہی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سردار علی وزارتِ خزانہ میں تعینات ہے اور اُس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ صوبہ خیبر پختون خوا کے شہر پشاور سے خودکش حملہ آوروں کو لیکر آتا ہے۔

اس تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ شدت پسند تنظیموں نے اپنے طریقے کار میں تبدیلی کی ہے اور وہ اب پرائیویٹ گھر کرائے پر لینے کی بجائے اُن سرکاری اہلکاروں کے گھروں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں جو اُن کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں انٹیلیجنس بیورو اور پولیس کی سپیشل برانچ کو یہ خصوصی ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ سرکاری ملازمین کے گھروں کا ایک علیحدہ سے سروے کریں اور اس ضمن میں ایک مفصل رپورٹ وزارت داخلہ کو پیش کریں۔ گرفتار ہونے والے ملزمان کو سنیچر کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اسی بارے میں