2011 میں اغوا کی اہم وارداتیں

پاکستان میں اغواء کے واقعات پر مختلف مکتبہ ہائے فکر کے افراد اپنی تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں جبکہ پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رحمنٰ ملک نے گزشتہ جون میں اسمبلی کے فلور پر بتایا کہ گزشتہ برس یعنی سنہ دو ہزار دس میں ملک بھر میں پندرہ ہزار سے زیادہ اغواء برائے تاوان کے مقدمات درج ہوئے ہیں۔ رواں برس بھی اغواء کی وارداتوں میں کمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے اور سال کے ابتدائی سات ماہ میں متعدد ملکی و غیر ملکی افراد کو اغواء کیا گیا ہے۔

26 اگست

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کو لاہور میں گلبرگ کے علاقے سے اغواء کر لیا گیا۔ وہ اپنی کار میں لبرٹی بازار کے عقب میں واقع اپنے دفتر کے قریب سفر کر رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی روک کر انہیں اغواء کر لیا۔

پولیس حکام کے مطابق اغواء کار دو موٹر سائیکلوں اور کالے رنگ کی ایک پراڈو جیپ میں سوار تھے اور وہ ڈیفنس کے علاقے کی جانب فرار ہوئے۔

12 اگست

شمالی وزیرستان میں شام پانچ بجے کے قریب صدر مقام میرانشاہ کے بازار سے ایک مقامی صحافی رحمت اللہ درپہ خیل کو اس وقت نا معلوم مُسلح افرادنے اغواء کر لیا جب وہ بازار میں افطاری کے لیے خریداری کر رہے تھے۔ انہیں تاحال بازیاب نہیں کرایا جاسکا ہے۔

13 اگست

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی شہری کو ان کے گھر سے اغواء کیا گیا۔

امریکی شہری وارن وائن سٹائن کو بارہ اور تیرہ اگست کی درمیانی شب کو ماڈل ٹاؤن میں واقع ان کی رہائش گاہ سے اغوا کیا گیا تھا۔ امریکی شہری کو بازیاب کرانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

دو جولائی

بلوچستان کے ضلع لورا لائی میں نامعلوم افراد نے سوئٹزرلینڈ کے دو شہریوں کو اغواء کیا۔ اب تک اس جوڑے کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے جبکہ طالبان نے اس اغواء کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

17 جولائی

نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے چالیس کلومیٹر دور شمال میں سورینج کے مقام پر پاکستان منرلز ڈویلمپینٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی) کے زیراہتمام سورینج کول مائینز کے پروجیکٹ منیجر مختارجونیجو سمیت پانچ سرکاری اہلکاروں کو اغواء کر لیا۔

18 جولائی

غیر سرکاری تنظیم امریکن رفیوجی کمیٹی (اے آرسی) کے آٹھ ملازمین کو پشین میں اس وقت نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کر لیا جب وہ سرخاب میں واقع افغان مہاجر کیمپ سے ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد واپس کوئٹہ کی طرف جا رہے تھے۔

10 جون

پاکستان کے قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں کوئلے کی کان میں مزدوری کرنے والے بیس کان کنوں کو مبینہ طور پر شدت پسندوں کے ایک گروپ نے اغواء کیا۔ تاہم دو ماہ کے عرصے کے بعد کوئلے کی کان کے ٹھیکیداروں کے مذاکرات اور جرگوں کے نتیجے میں سولہ مزدوروں کی رہائی عمل میں آئی ہے جبکہ چار کان کن پہلے ہی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔۔

29 مئی

صحافی سلیم شہزاد اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے اور دو روز بعد ان کی لاش صوبۂ پنجاب کے علاقے منڈی بہاؤالدین سے ملی۔ انہیں نامعلوم افراد نے تشدد کر کے ہلاک کیا اور ان کی لاش کو نہر میں پھینک کر فرار ہوگئے۔

28 فروری

دو جج جان محمد گوہر اور محمد علی کاکڑ سبی سے اوستہ محمد جاتے ہوئے ڈیرہ مراد جمالی کے علاقے میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں اغواء کرلیے گئے تھے۔ تاہم سکیورٹی فورسز نے انہیں دس روز بعد بازیاب کرالیا۔

22 فروری

متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے دو وکلاء سیلم اختر ایڈووکیٹ اور سید محمد طاہر ایڈووکیٹ کو کوئٹہ سے سبی جاتے ہوئے ڈھاڈر کے مقام پر نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کیا جبکہ بلوچ بار ایسوسی ایشن کے رکن آغا عبدالظاہر ایڈووکیٹ کو سبی سے کوئٹہ آتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغواء کیا۔

اسی بارے میں