سلطانی چلی بھی جائے تو بوئے سلطانی نہیں جاتی

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لیبیا کے صدر کرنل قذافی نے باغیوں کو مذاکرات کی پش کش کی ہے۔

جیسے ہز رائل ہائی نیس رضا شاہ پہلوی نے معزولی کے بعد پانامہ میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ بادشاہ یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا، کچھ لوگ تو مجھے تب بھی بادشاہ نہیں کہتے تھے جب میں تہران کے سعد آباد پیلس میں تھا۔

جیسے پرویز مشرف کو ہی لے لیں جنہیں عتیقہ اوڈھو سے میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی اور ڈاکٹر شیر افگن تک آج بھی پریذیڈنٹ مشرف کہتے ہیں۔

ویسے بوئے سلطانی و خوئے سلطانی کے لئے اصلی سلطان ہونا بھی ضروری نہیں۔

جیسے نواب آف جونا گڑھ کے پوتے اور پڑ پوتے آج بھی کراچی کی سڑکوں پر اپنی گاڑیوں پر جونا گڑھ ون ، ٹو ، تھری یا فور کی سرخ پلیٹ لگائے الگ ہی دکھائی دیتے ہیں۔

جیسے ہمارے مشفق و معصوم دوست استاد محبوب نرالے عالم کا شجرہ چونکہ بہادر شاہ ظفر تک جاتا تھا لہذا وہ کراچی میں اردو بازار کے ایک تھڑے پر تادمِ مرگ دربار لگاتے رہے اور نہرو سے ملکہ برطانیہ تک ہر ایک کو لال قلعے اور کوہِ نور کی واپسی کے لئے خطوط لکھتے رہے۔ استاد تو کوچ کرگئے لیکن وزیٹنگ کارڈ آج بھی زندہ ہے۔

آخری مغلیہ تاجدار شہنشاہِ ہند استاد محبوب نرالے عالم۔۔۔ فون نمبر فلاں فلاں فلاں۔۔۔

دلیپ کمار سن پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں اس لئے ٹریجڈی کنگ کہے جاتے تھے کیونکہ وہ کرداروں میں اتنے ڈوب جاتے تھے کہ پیچھا چھڑانا مسئلہ بن جاتا۔

جیسے دیو داس کا کردار ایک عرصے تک ان میں حلول رہا۔ جب دلیپ کمار نے مغلِ اعظم میں شہزادہ سلیم کا لازوال کردار نبھایا تو فلم کی تکمیل کے بعد بھی شہزادہ سلیم نے ان کا ذہنی طور پر پیچھا نہیں چھوڑا۔ چنانچہ وہ کاؤنسلنگ کے لئے لندن گئے اور ایک ماہرِ نفسیات نے انہیں کچھ عرصے کے لئے ٹریجڈی کرداروں سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔

لہٰذا سن چونسٹھ میں دلیپ صاحب کی پہلی کامیڈی فلم لیڈر منظرِ عام پر آئی۔ اس کے بعد سے دلیپ صاحب نت نئے کرداروں میں آتے رہے۔

آپ کسی بھی ریٹائرڈ فوجی افسر، جج، لیکچرر، وزیر یا ڈپٹی کمشبنر سے ملیں وہ کبھی بھی آپ کو جنرل صاحب، بریگیڈیر صاحب، کرنل صاحب، جسٹس صاحب، جج صاحب، پروفیسر صاحب، منسٹر صاحب یا کمشنر صاحب کہنے سے منع نہیں کرے گا۔ اور تو اور جس کا دادا یا نانا کسی زمانے میں کسی چھوٹی سی ریاست کے کسی قصبے میں تعلقہ دار رہا ہوگا اس کا نواسا یا پوتا آج بھی نواب صاحب یا میر صاحب کی صدا سن کر باغ باغ ہوجاتا ہے۔

ویسے یہ کوئی عیب کی بات بھی نہیں کیونکہ ہم میں سے ہر کسی میں ایک پرویز مشرف اور استاد محبوب نرالے عالم کہیں نا کہیں چھپا بیٹھا ہے جو رضا شاہ پہلوی کی طرح خود کو بتاتا رہتا ہے کہ بادشاہ یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔

یہ ساری مثالیہ رام کہانی مجھے روپوش کرنل قذافی کا تازہ بیان پڑھ کر سوجھ رہی ہے جنہوں نے اب اپنے مخالفین کو باضابطہ انتقالِ اقتدار کے لئے مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔

اسی بارے میں