’کراچی میں تشدد کی وجہ سماجی تبدیلی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سندھ پولیس نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ کراچی میں جاری پرتشدد واقعات کی وجہ آبادی کے تناسب میں تبدیلی ہے اور اس کی ابتدا سنہ دو ہزار سات سے اس وقت ہوئی جب قبائلی علاقوں میں آپریشن شروع کیا گیا تھا۔

یہ بات آئی جی سندھ واجد درانی نے کراچی میں جاری پرتشدد واقعات کے بارے میں سپریم کورٹ میں تحریری طور پر ایک جامع رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے بتایا کہ دو ہزار سات میں قبائلی علاقوں میں آپریشن کے بعد بڑی تعداد میں لوگ کراچی آئے جس کے باعث شہر کی مختلف قومیت کے افراد کے اعداد و شمار میں تبدیلی آئی ہے۔ اور اس تبدیلی کے باعث مسائل بڑھنے کے ساتھ ساتھ لسانی تضاد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

’ملزموں کی پشت پناہی کرنے والوں کا جاننا چاہتے ہیں‘

انہوں نے بتایا کہ پرتشدد واقعات کی ایک بڑی وجہ لسانی اکائیوں میں اعتماد کا فقدان اور غیر قانونی اسلحے تک آسانی سے رسائی ہے۔

آئی جی سندھ واجد درانی نے اس رپورٹ میں شہر میں نوگو ایریاز کی موجودگی کو تسلیم کیا۔ ’اردو اور پٹھان کمیونٹیز میں جب پرتشدد واقعات پیش آتے ہیں تو لوگ ایک دوسرے کے علاقوں میں نہیں جاسکتے، اور عام حالات میں بھی وہ ان علاقوں میں جانے سے گریز کرتے ہیں۔‘

اپنی رپورٹ میں انہوں نے شہر کے شورش زدہ علاقوں کی تفصیلات اور لسانی گروہوں میں موجود تضادات کو بیان کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق قصبہ کالونی میں اردو اور پشتون، شرافی گوٹھ میں اردو اور بلوچ، بنارس میں اردو اور پشتون، قائد آباد میں اردو اور سنی تحریک، نیو کراچی میں سنی تحریک اور سپاہ صحابہ، سچل گوٹھ میں اردو اور افغانی، سرجانی میں اردو، پشتون اور سرائیکی، ملیر سٹی میں اردو اور بلوچ، لانڈھی میں اردو اور پشتون، الفلاح میں اردو اور بلوچ، کورنگی چکرا گوٹھ میں اردو اور سندھی اور کھوکھراپار میں اردو اور سندھی تضادات ہیں۔

واجد درانی نے بتایا کہ پچھلے ایک ماہ کے اندر 306 افراد قتل ہوئے ہیں۔ ’سترہ بوری بند جبکہ آٹھ سرکٹی لاشیں تھیں۔ اسی عرصے میں ستر گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا جس میں ایمبولینس اور پولیس موبائل بھی شامل ہیں۔‘

حالیہ پرتشدد واقعات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ چوبیس جولائی کو بلدیہ اور کلا کوٹ میں 91 افراد ہلاک اور 47 زخمی ہوئے۔ ’یہ ہلاکتیں اردو، پٹھان اور بلوچ تضاد کا نتیجہ تھیں۔ یکم اگست سے 3 اگست تک 38 افراد ہلاک اور 53 زخمی ہوئے، اکثر واقعات سرجانی میں پیش آئے یہ ہلاکتیں اردو، سرائیکی اور پشتون تضاد کا نتیجہ ہیں۔‘

رپورٹ کے مطابق 6 اگست کو پیر آباد، سائیٹ اور اورنگی میں 13 افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے، واقعات اردو اور پٹھان تضاد کے نتیجہ تھے۔ 17 اگست سے 24 اگست تک میٹھادر، لیاری، چکر گوٹھ میں 111 افراد ہلاک 146 زخمی ہوئے یہ ہلاکتیں اردو، سندھی اور بلوچ تضاد کا نتیجہ تھیں۔

آئی جی سندھ واجد درانی نے بتایا کہ اگست کے آخر میں ہونے والے پرتشدد واقعات ان کے لیے دوسروں سے مختلف تھے کیونکہ یہ گینگ وار سے لسانی فسادات میں تبدیل ہوئے جس میں لوگوں کو اغوا کرکے ہلاک کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک ماہ میں پولیس نے تین ہزار کے قریب چھاپے مارے اور بیس ٹارگٹ کلرز گرفتار کیے ہیں۔

واجد درانی کے مطابق قتل کا مقدمہ زیادہ تر نامعلوم ملزمان کے خلاف دائر ہوتا ہے جب پولیس ملزم گرفتار کرتی ہے تو وہ قتل کا اعتراف کرتے ہیں مگر کبھی کبھی مدعی ان کی نشاندہی نہیں کرتے اور عدالت ملزم کو رہا کردیتی ہے۔

’شہر میں 164 مقامات پر 900 کیمرے لگائے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ فارنسک لیبارٹری کو بھی اپ ڈیٹ کیا جارہا ہے۔‘

آئی جی سندھ نے عدالت سے درخِواست کی کہ ویڈیو ریکارڈنگ کو بطور ثبوت قبول کیا جائے جس کے جواب میں انہیں چیف جسٹس نے بتایا کہ ویڈیو ریکارڈنگ بطور ثبوت قابل قبول ہیں اس حوالے سے عدالت فیصلہ دے چکی ہے۔

اسی بارے میں