’لائن آف کنٹرول پر فائرنگ، چار فوجی ہلاک‘

لائن آف کنٹرول فائل فوٹو
Image caption اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں: جنرل اطہر عباس

منگل کی رات لائن آف کنٹرول پر ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں تین پاکستانی اور ایک بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ فریقین نے ایک دوسرے کو واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں تین پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

دوسری طرف بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں تعینات انڈین آرمی کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ لگنے والی لائن آف کنٹرول پر پاکستان نے آٹھ سال سے نافذ فائربندی معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس دوران کنٹرول لائن کے قریب مسلح دراندازوں کے حملے میں ایک فوجی افسر بھی مارا گیا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔

’بھارت کی جانب سے فائرنگ‘

لائن آف کنٹرول پر فائرنگ، ایک ہلاک

کشمیر: بھارتی فوجی اور بارہ شدت پسند ہلاک

جنرل اطہر عباس نے بتایا کہ منگل کی رات کو وادی نیلم کے علاقے دودھنیال میں بھارتی فوج نے پاکستانی چوکی پر فائرنگ کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فائرنگ کے نتیجے میں تین پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا پاکستانی فوج نے بھی جوابی فائرنگ کی یا نہیں۔

جنرل اطہر عباس نے مزید بتایا کہ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا ہے وہاں کہ پاکستانی فوجی کمانڈر نے اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ معاملہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

دوسری طرف بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں تعینات انڈین آرمی کی پندرہویں کور کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ لگنے والی لائن آف کنٹرول پر پاکستان نے آٹھ سال سے نافذ فائربندی معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس دوران کنٹرول لائن کے قریب مسلح دراندازوں کے حملے میں ایک فوجی افسر بھی مارا گیا۔

فوجی ترجمان لیفٹنٹ کرنل جے ایس برار نے سرینگر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کو بتایا کہ منگل کی شب سے ہی کنٹرول لائن کے کیرن سیکڑ میں تناؤ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منگل کی شب مسلح دراندازوں نے کشمیر میں داخل ہونے کی کوشش کی تو فوج نے انہیں روکا۔ ترجمان کے مطاق اس دوران تصادم ہوا جس میں جونئر کمیشنڈ افسر ،صوبیدار گرو دیال سنگھ نامی فوجی ہلاک ہوگیا۔ مسلح دراندازوں کے بارے میں فوج کو شبہ ہے کہ وہ اندھیرے کا فائدہ اُٹھاکر فرار ہوگئے۔

فوجی ترجمان کرنل برار کا کہنا ہے کہ عید کے روز پاکستانی فوج نے شمالی کشمیر کے کیرن سیکٹر میں بھارتی فوج کی ایک پوسٹ کو مارٹرگولوں سے نشانہ بنایا جس میں ایک فوجی اہلکار زخمی ہوگیا۔ ’زخمی جوان کو ہسپتال پہنچایا گیا ہے اور وہ خطرے سے باہر ہے۔' تاہم ان کا کہنا تھا کہ کنٹرول لائن پر فی الوقت ہورہی فائرنگ کا منگل وار کو ہوئے تصادم یا اس میں مارے گئے فوجی اہلکار کے ساتھ بظاہر کوئی تعلق نہیں ہے۔ 'یہ تو الگ الگ واقعات ہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی فوج دراندازوں کو وادی میں داخل کرانے کے لئے فائرنگ کا سہارا لیتی ہے۔'

فوجی ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستانی فائرنگ کے جواب میں بھارتی افواج نے فائرنگ کی تاہم تصادم بدھ کی رات معطل ہوکر جمعرات کی صبح دوبارہ شروع ہوا۔

یاد رہے کہ سنہ دو ہزار تین میں دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا سمجھوتہ ہوا تھا۔اس سمجھوتے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فائرنگ ہوتی رہتی ہے۔

تاہم سنہ دو ہزار تین کے بعد یہ پہلا واقعہ ہے جس میں اتنا جانی نقصان ہوا ہے۔

اس سے پہلے گزشتہ روز بدھ کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے اٹھ مقام میں نماز عید کے اجتماع پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں حکومت پاکستان اور فوج سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ لائن آف کنٹرول پر امن برقرار رکھیں۔

اس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جو امن کو قائم رکھنے کا باعث ہوں اور حالات کو خراب ہونے سے روکا جائے۔

قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ ’کچھ لوگوں کو لائن آف کنٹرول پر امن پسند نہیں۔ ایسے لوگوں کے اپنے مقاصد ہوسکتے ہیں اور عوامی مسائل کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

قرارداد کے الفاظ میں لائن آف کنٹرول پر صورت حال خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو عوام برداشت نہیں کریں گے اور عوام ہر ایسی کوشش کی مذمت اور مزاحمت کریں گے۔

وادی نیلم کے رہائشیوں نے بی بی سی بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حالیہ ہفتوں میں ان کے علاقے میں شدت پسندوں کی سرگرمیوں میں قدرے تیزی آئی ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ لائن آف کنٹرول پر ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے درمیان فائر بندی خطرے پڑ سکتی ہے اور اس علاقے کا امن ایک بار پھر متاثر ہوسکتا ہے۔

مقامی لوگوں کے بقول ’زبان اور حلیے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کشمیری نہیں بلکہ پاکستانی ہیں اور ان میں بھی اکثریت پنچابیوں کی ہے‘۔

فائر بندی کے معاہدے سے قبل لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ معمول کی بات تھی۔

اس کے نتیجے میں وادی نیلم کا خطہ سب سے زیادہ متاثرہ ہوا تھا اور سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے اور املاک کو نقصان پہنچا تھا۔

اسی بارے میں