بلوچستان: تین اضلاع متاثر، نو افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حالیہ بارشوں سے بلوچستان کے تین اضلاع قلات، خضدار اور لورالائی متاثر ہوئے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حالیہ سیلاب اور بارشوں سے تین اضلاع شدید متاثر ہوئے ہیں جن میں نوافراد ہلاک ہوئے ہیں۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹرجنرل طاہر منیر منہاس نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حالیہ مون سون بارشوں اورسیلابی ریلوں کے باعث اب تک تین اضلاع متاثر ہوئے جن میں نوافراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ چار گاؤں زیر آب آچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثر ہونے والے اضلاع میں حکومت نے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے امدادی کام شروع کردیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ روز سے جاری مون سون بارشیں آئندہ چند روز جاری رہیں گی اور اس حوالے سے قلات، خضدار، لورالائی، بارکھان ، کوہلو، موسیٰ خیل ریڈ الرٹ کردیاگیاہے۔

طاہر منیرمنہاس نے کہا کہ حالیہ بارشوں سے بلوچستان کے تین اضلاع قلات، خضدار اور لورالائی متاثر ہوئے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار ایوب ترین نے بتایا کہ پریش کانفرنس کرتے ہوئے پی ڈی ایم اے کے سربراہ نے کہا کہ قلات میں سب سے زیادہ بارش اسّی ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ ان بارشوں سے چار دیہات زیر آب آگئے اورکچے مکانات کو بھی جزوی نقصان پہنچاہے۔

اس کے علاوہ لورالائی میں بھی مون سون بارشوں کے باعث مکانات منہدم ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں تحصیل دکی میں پانچ افراد ہلاک ہوئے جبکہ دوافراد کی کی ہلاکت سانپ کے ڈسنے سے ہوئی ہے۔

دوسری جانب کراچی سے سیروتفریح کے لیے حب آنے والے دونوجوان حب ندی کے سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ خضدار کے علاقے مولہ میں ندی میں طغیانی آگئی اس کے علاوہ دریائے ناڑی میں بھی پچاس ہزار کیوسک پانی گزراہے جس کی سخت نگرانی کی جارہی ہے۔

ڈایکٹرجنرل پی ڈی ایم اے نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں متاثرین کی امداد کے لیے بارہ ٹرکوں میں امدادی سامان متاثرہ علاقوں کو روانہ کر دیاگیا ہے۔ امدادی سامان میں کمبل، خیمے، کھانے پینے کی اشیاء شامل ہیں۔

اسی بارے میں