’میں کیسے گھر پہنچا کچھ پتہ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ہاتھوں قبائلی علاقے باجوڑ سے متصل پاک افغان سرحد پر پچیس بچے یرغمال بنا لیے گئے ہیں۔

یہ بچے منگل کو پاکستان اور افغانستان کے سرحد کے اوپر ایک سرسبز و شاداب پہاڑی سلسلے میں عیدالفطر کی خُوشی منانے والے درجنوں بچے غلطی سے افغان سرحد کے اس پار چلے گئے تھے۔

ان میں سے ایک اٹھارہ سالہ وحید اللہ ہیں جو اس وقت بھاگ کھڑے ہوئے جب طالبان نے پکڑ دھکڑ شروع کی۔

ان کا کہنا ہے کہ تقریباً پانچ سو افراد عید کے اگلے روز تفریح کے لیے گئے تھے۔

’پاکستانی فوج نے بہت روکنے کی کوشش کی لیکن تعداد تقریباً پانچ سو کے لگ بھگ ہونے کے باعث فوج کنٹرول نہ کرسکی۔‘

انہوں نے بتایا کہ وہ اس علاقے میں نہیں گئے تھے جہاں سے طالبان نے بچوں کو یرغمال بنایا۔ ’جب ہم نے دیکھا کہ طالبان بچوں کو پکڑ رہے ہیں تو میں وہیں سے واپس بھاگ کھڑا ہوا۔ طالبان نے فائرنگ نہیں کی۔‘

انہوں نے کہا کہ ایک سال بعد عید منانے گئے تھے اور اس میں بھی مشکل میں پڑ گئے ہیں۔

وحید اللہ نے بتایا کہ جس جگہ یہ واقعے پیش آیا اس سے تقریباً تین کلومیٹر دور پاکستانی فوج موجود تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی ملِک نے بچوں کو چھڑوانے کے لیے کوششیں شروع کی ہوئی ہیں لیکن ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ملی۔

جس جگہ سے طالبان نے ان بچوں کو یرغمال بنایا ہے اس کے بارے میں وحید اللہ نے بتایا ’پہاڑ سے نیچے اتر کر یہ ایک چشمہ ہے جو تین کلومیٹر افغان سرحد کے اندر ہے۔ سڑک سے تو تین کلومیٹر ہے لیکن پہاڑ سے نیچے اترا جائے تو اتنا فاصلہ نہیں ہے۔‘

وحید اللہ نے بتایا کہ جو بچے یرغمال بنائے گئے ہیں ان کی عمریں چودہ سال سے لے کر اٹھارہ سال ہیں۔ ’واپس علاقے میں آ کر جب بتایا کہ طالبان نے بچوں کو یرغمال بنا لیا گیا ہے تو پورے علاقے میں ماتم شروع ہو گیا۔‘

وحید اللہ نے بتایا کہ ان کو صرف دو ہی طالبان دکھائے دیے۔ ’جب طالبان نے پکڑ دھکڑ شروع کیا تو میں بھاگا ہوں اور مجھے نہیں معلوم کہ میں کیسے اپنے گھر پہنچا۔

چودہ سالہ رحمت اللہ ماموند قبائل کے ان بچوں میں شامل ہے جن کو طالبان شدت پسندوں نے عید کے دوسرے دن افعان سرحد کے اس پار سے اغواء کیا تھا۔ رحمت اللہ کے پچپن سالہ والد محمد جان نے بتایا کہ جب سے ان کا بیٹا اغواء ہوا ہے کہ ان کے گھر میں ایک ماتم ہے اور تمام گھر والے کھانا بھی نہیں کھاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دن کے وقت ان کے قریبی رشتہ دار ان کے ساتھ موجود ہوتے ہیں اور وہ سارا دن ان کے ساتھ گُزارتے ہیں۔جب شام کو وہ اپنے اپنےگھروں میں چلے جاتے ہیں تو ان کے گھر میں خواتین اور بچے رونا پیٹنا شروع کردیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ کچھ نہیں کرسکتے ہیں طالبان کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔اور نہ ہی ان کو یہ پتہ ہے کہ کیا وہ زندہ بچے گا یا نہیں۔وہ بُہت غریب ہے بس وہ صرف جرگے والوں کو جانتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کے ان کے تین بیٹے ہیں ایک رحمت اللہ سے چھوٹا ہے اور ایک بڑا ہے۔بس وہ ریڈیو اور ٹی وی پر سُنتا ہے اس کے علاوہ ان کو کچھ پتہ نہیں ہے۔محمد جان کے مطابق ان بچے بُہت زیادہ پرشان ہے لیکن رحمت اللہ کی والدہ اتنی پریشان ہے کہ کھانا پینا سب کچھ چھوڑ دیا ہے۔

اسی بارے میں