بلوچستان میں پولیو کے دو نئے مریض

پولیو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پولیو سے زیادہ کیسز صوبہ بلوچستان میں رپورٹ ہوئے۔

بلوچستان میں پولیو کے مزید دو مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں گذشتہ آٹھ ماہ کے دوران پولیو کے مریضوں کی تعداد اکتیس تک پہنچ گئی ہےجو پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔

پولیو کے نئے مریض دارالحکومت کوئٹہ اور قلعہ عبداللہ میں سامنے آئے ہیں۔

صوبائی سیکرٹری صحت عصمت اللہ کاکڑ کا کہنا ہے کہ پولیو سے بلوچستان کے آٹھ اضلاع متاثر ہوئے ہیں جن میں سے کوئٹہ میں دس، خضدار میں تین، نوشکی میں تین، پشین میں آٹھ، قلعہ عبداللہ میں بارہ ، ڈیرہ بگٹی میں ایک اور کوہلومیں ایک مریض سامنے آیا ہے۔

بلوچستان میں پولیوکے خلاف مہم گذشتہ سترہ سال سے جاری ہے لیکن پولیو کے مریضوں میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق پولیوکیسز میں اضافے کی وجوہات بتاتے ہوئے سیکرٹری صحت نے کہا کہ ’متعلقہ اضلاع اور خاص کر پشتون علاقوں میں والدین کی جانب سے بچوں کو پولیوکے قطرے پلانے سے انکار کر دیا جاتا ہے جس کے باعث پولیوکے کیسز کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سنہ دو ہزار پانچ میں صوبے میں پولیو کے آٹھ، دو ہزار چھ میں دس، دو ہزار سات میں آٹھ، دو ہزار آٹھ اور نو میں گیارہ گیارہ، دو ہزار دس میں بارہ جبکہ رواں سال اب تک اکتیس مریض سامنے آئے ہیں۔

اس سوال پر کہ کیا مہم میں محکمۂ صحت کی جانب سے کسی کوتاہی کا امکان ہے، عصمت اللہ کاکڑ نے کہا کہ محکمہ صحت اور عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے تمام علاقوں میں کئی بار مہم چلائی گئی ہے اور حتی کہ پشین میں تو ڈپٹی کمشنر خود پولیو ٹیموں کے ساتھ جا کر ان والدین سے بھی ملے ہیں جو بچوں کوقطرے پلانے سے انکاری تھے۔

Image caption اگر بچوں کو پولیوکے قطرے پلانے سے انکار کا سلسلہ بند نہ ہوا تو اس کا خاتمہ ممکن نہیں

ان کے مطابق والدین کی جانب سے اگر بچوں کو پولیوکے قطرے پلانے سے انکار کا سلسلہ بند نہیں ہوا تو پھر دو ہزار بارہ میں بھی اس کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔

دوسری جانب گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی نے پولیو کے کیسز میں اضافے پرتشویش کااظہار کرتے ہوئے نو ستمبر کوگورنر ہاؤس کوئٹہ میں ارکان صوبائی اسمبلی کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں پولیو کے کیسز روکنے کے لیے نئی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے صوبے میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو خط بھی تحریر کیا تھا جس میں صوبائی حکومت سے کہا گیا تھا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق عالمی ادارۂ صحت اور یونیسف کا ایک اعلی سطح کا وفد بھی آٹھ ستمبر کو کوئٹہ پہنچ رہا ہے جو پولیوکے بڑھتے ہوئے کیسز کے سلسلے میں صوبائی حکومت سے مذاکرات کرے گا۔

اسی بارے میں