پاکستانی خاتون فوٹو جرنلسٹ کے لیے ایوارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سعدیہ سحر نے شوہر کی ہلاکت کے بعد صحافت کا شعبہ اختیار کیا۔

اخباروں کی عالمی تنظیم نے پاکستان کی پہلی فوٹو جرنلسٹ سعدیہ سحر کو رورل میڈیا نیٹ ورک ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔

اس ضمن میں ایک تقریب اس ماہ کی پچیس تاریخ کو جنوبی پنجاب کے شہر احمد پور میں ہوگی۔

سعدیہ سحر کے شوہر عزیزا للہ حیدری ایک غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹر کے لیے کام کرتے تھے جو سنہ دوہزار ایک میں افعانستان میں طالبان کے ایک حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے میں عزیز اللہ حیدری کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا سے تعلق رکھنے والے تین دیگر غیر ملکی صحافی بھی مارے گئے تھے۔

سعدیہ سحر پاکستان میں ایک سکول میں پڑھاتی تھیں تاہم شوہر کی ہلاکت کے بعد اُنہوں نے شعبہ صحافت میں ماسٹر ڈگری حاصل کی جس کے بعد اُنہوں نے رائٹرز ریڈیو اور ٹی وی مانٹرنگ کے لیے کا کیا۔

سعدیہ سحر نے مقامی میڈیا میں بھی خواتین کے مسائل کے علاوہ ، شدت پسندی اور انتہا پسندی کے موضوعات پر بھی بہت سے مضامین لکھے۔ اس کے علاوہ اُنہوں نے سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کے لیے بھی مضمون نگار اور فوٹو جرنسلٹ کے طور پر بھی کام کیا۔

سعدیہ سحر نے اسلام آباد میں ایک نجی ٹی وی چینل میں بطور پورٹر اور کیمرہ پرسن بھی کام کیا۔ اس کے علاوہ اُنہیں نیپال میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام الیکٹرانک میڈیا سے متعلق ہونے والی بین الاقومی تربیتی ورکشاپ میں شرکت کرنے کے لیے منتخب کیا گیا۔

مذکورہ خاتون صحافی کو اسلام آباد پولیس نے اُس وقت تشدد کا نشانہ بنایا اور گرفتار کیا گیا جب وہ ستمبر سنہ دوہزار سات میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف نکالے جانے والے احتجاجی جلوس کی کوریج کر رہی تھیں۔ اس واقعے میں ایک درجن کے قریب صحافی زخمی بھی ہوئے تھے۔

سعدیہ سحر کو پولیس نے نومبر سنہ دوہزار سات کو اُس وقت دوبارہ حراست میں لے لیا جب وہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد مقامی نجی چینل جیو کی نشریات بند ہونے کے خلاف مظاہرے میں شامل تھیں۔

رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان کے صدر احسان احمد کے مطابق سعدیہ کو ملنے والا ایوارڈ معلومات کے حصول کے لیے کی جانے والی کاوشوں کی ایک کڑی ہے۔

پاکستان کوصحافیوں کے لیے انتہائی خطرناک جگہ قرار دیا گیا ہے اور رواں سال تیرہ صحافیوں کو موت کے گھاٹ اُتارا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں