’خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے‘

Image caption بعض اینکر پرسن اور مذہبی رہنما عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں: مصطفیٰ کمال

پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن اور کراچی کے سابق ناظم مصطفیٰ کمال نے سابق صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرنس کے بعد ایم کیو ایم پر کی جانے والی تنقید پر میڈیا کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

منگل کی رات کو کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ’وہ میڈیا اور دوستوں کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ انیس سو بانوے نہیں بلکہ دو ہزار گیارہ ہے، ایم کیو ایم کی ملک کی بقا اور امن کے لیے خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے اور مہاجر قوم اور مہاجروں کی جماعت کو دیوار سے لگانے کی سازش بند کی جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی بقاء اور سلامتی پر یقین رکھتے ہیں اور ان کی رگوں میں پاکستان بنانے والوں کا خون ہے، اس لیے وہ ملک توڑنے اور سازش کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے، ماضی میں بھی ان پر جناح پور کے الزام لگائے گئے جو وقت نے غلط ثابت کیے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ میڈیا نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو بڑا ہیرو بنا رکھا ہے اور ایم کیو ایم اور اس کی سربراہ کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے مبینہ طور پر برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو لکھے جانے والے خط کا ذکر کرتے ہوئے اسے من گھڑت قرار دیا۔

ان کا کہنا تھاکہ’ تعصب پرست اینکر اس خط کو اچھال کر میڈیا ٹرائل کر رہے ہیں جبکہ ملک کی تاریخ ایسے افسانوں سے بھری ہوئی ہے۔‘

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اور فوج کے حلقوں میں غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، مگر جب آئی ایس آئی کو وزرات داخلہ کے ماتحت کرنے کی بات ہوئی تو ایم کیو ایم نے سب سے پہلے اس کی مخالفت کی اسی طرح کیری لوگر بل کی بھی کھل کر مخالفت کی گئی۔

’ہماری مخالفت یا حمایت کسی کو خوش کرنے یا ناراض کرنے کے لیے نہیں رہی، ہمیں تو فوج اور اسٹیبلشمنٹ کی جماعت ہونے کا طعنے دیے جاتے رہے ہیں۔‘

سابق سٹی ناظم کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر مرزا نے الزام عائد کیا ہے کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ سے وفاقی وزیر بابر غوری کی وزارت کے دوران نیٹو کے ہزاروں کنٹینرز جس میں طرح طرح کا اسلحہ تھا ایم کیو ایم نے چوری کرائے مگر ان میں سے کبھی کسی ایک کی بھی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی، ذوالفقار مرزا اس وقت وزیر داخلہ تھے انہوں نے ایسا کوئی اقدام کیوں نہیں کیا۔

انہوں نے ایک سینئر صحافی کا نام لیے بغیر کہا کہ ٹائیاں لگا کر، موچھیں بنا کر گیارہ سے بارہ بجے سلسلہ شروع ہوتا ہے جو ساری خرافات نکال لیتے ہیں اور اپنے پورے خواب پورے کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مسائل مزید گھمبیر نہ ہو جائیں ایم کیو ایم نے اپنے جذبات اور رد عمل کو دبائے رکھا اور جواب دینا گوارہ نہیں کہ کہیں صورتحال میں گرمی پیدا نہ ہو۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم عدلیہ کی آزادی کا احترام کرتی ہے وہ چاہتے ہیں کہ جو الزامات ہیں وہ عدالت میں ثابت کیے جائیں جب تک کسی کو مجرم قرار نہ دیا جائے مگر بعض اینکر پرسن اور مذہبی رہنما عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں