اختیارات طویل عرصے تک چاہتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی میں امن کی بحالی اور ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام کے لیے مقرر سرحدی فورس رینجرز کے سربراہ نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ بغیر وارنٹ کے چھاپوں اور حراست میں رکھنے کے اختیارات ایک بڑے عرصے تک ان کے حوالے کیے جائیں۔

ڈائریکٹر رینجرز چوہدری اعجاز نے منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رینجرز کے پاس جو اختیارات ہیں وہ رہے تو رینجرز اور پولیس ملزمان کو دوبارہ سر اٹھانے نہیں دے گی، اس لیے ضروری ہے کہ جس سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت نے یہ اختیار دیئے ہیں وہ زیادہ عرصے تک رہیں۔

’اس کو ایک مہم کی طرح چلانا ہوگا یہ سوئچ آن آف کرنے والا کام نہیں ہے، پندرہ بیس دن کے بعد ہم سمجھیں کہ حالات بلکل ٹھیک ہوگئے ہیں اور اختیار واپس لے لیں اور جو ملزم ہیں انہیں کارروائی کرنا کا موقعہ مل جائے۔‘

ڈی جی رینجرز نے دعویٰ کیا کہ رینجرز ہمیشہ بلا امتیاز کارروائی کرتی ہے جس میں کسی سیاسی جماعت یا گروہ کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ آپریشن نظر نہیں آرہا مگر جو نظر آتا ہے وہ آپریشن نہیں ہوتا آپ کو نتائج دیکھنے چاہیں۔

’ ہم نہیں چاہتے کہ عام شہری کو کسی تکلیف کا سامنا ہو اگر کبھی ایسا موقعہ آئے اور کسی امن پسند شہری سے پوچھ گچھ کی جائے تو یہ سمجھیئے گا کہ یہ مجبوری کے تحت کیا جارہا ہے کیونکہ جب تک کسی آدمی کو چیک نہ کرلیا جائے تب تک یہ کہنا صحیح نہیں ہوتا کہ یہ صاف ہے یا نہیں۔‛

ڈی جی رینجرز نے واضح کیا کہ اسٹریٹ کرائم کی روک تھام پولیس کی ذمہ داری ہے، رینجرز دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے۔ امن امان کی بحالی کی ذمہ داری پولیس کے پاس ہی رہیگی۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں کراچی میں بدامنی کے خلاف از خود نوٹیس کی سماعت کے دوران رینجرز کی کارکردگی کو فریقین کے وکلا اور جج صاحبان نے کئی بار تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اسی بارے میں