ڈاکٹر شکیل کے ملک چھوڑنے پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایبٹ آباد واقعہ کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے اس واقعہ سے متعلق اہم کردار ڈاکٹر شکیل آفریدی سمیت دیگر متعقلہ افراد کی بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کردی ہے۔

سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم ہونے والے اس اعلٰی اختیاراتی کمیشن کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس واقعہ سے متعلق سرکاری افسران اور دیگر متعلقہ افراد اُس وقت تک بیرون ملک سفر نہیں کرسکیں گے جب تک کمیشن اُن کو اجازت نہیں دیتا۔

ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کے خلاف فوجی کارروائی میں ڈاکٹر شکیل آفریدی نے مبینہ طور پر امریکی حکام کو معلومات پہنچائی تھیں۔ مذکورہ شخص کو امریکہ حوالے کرنے سے متعلق بھی امریکی حکام کی طرف سے مطالبہ کیا گیا تھا تاہم پاکستان نے اس مطالبے کو مسترد کردیا تھا۔

ادھر ایبٹ آباد پولیس نے اُسامہ بن لادن کے کمپاونڈ کی طرف جانے والے دو غیرملکیوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ ان افراد کا تعلق ڈنمارک سے ہے۔

ایبٹ آباد پولیس کے سربراہ کریم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان افراد کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے اور ان میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق یہ غیر ملکی افراد آج ہی ایبٹ آباد پہنچے تھے۔ کریم خان کا کہنا تھا کہ ان افراد کی سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے اہلکاروں کو بُلایا گیا ہے جو سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق سفری دستاویزات پوری ہونے کی صورت میں اُنہیں رہا کردیا گیا۔ وزارت خارجہ کے ایک اہلکار کے بقول امریکی اور یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کو جب پاکستانی ویزا جاری کیا جاتا ہے تو اُس میں یہ شرط عائد نہیں کی جاتی کہ وہ فلاں علاقے میں جاسکتا ہے اور فلاں میں نہیں البتہ اُن کی حفاظت کے لیے کسی بھی شہر میں جانے کے لیے این او سی حاصل کرنے کی شرط لازمی قرار دی گئی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کی رہائش گاہ کے باہر پولیس جبکہ رہائش گاہ کے اندر فوج کے اہلکار تعینات ہیں جبکہ رہائش گاہ کی طرف جانے والے راستوں پر بھی پولیس اور فوج کے ناکے لگائے گئے ہیں۔