کراچی: بیالیس مبینہ ٹارگٹ کلرز گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی میں گزشتہ ماہ سے رینجرز اور پولیس کا مخصوص علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ منظور وسان نے کہا ہے کہ پولیس اور رینجرز نے آپریشن کے دوران بارہ سو پچاس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں سے بیالیس مبینہ ٹارگٹ کلرز ہیں۔

صوبائی وزیر داخلہ کے مطابق گرفتاریوں کا سلسلہ گزشتہ ماہ اگست کی تئیس تاریخ سے شروع کیا گیا تھا۔

کراچی میں بدھ کو میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ نے بتایا کہ گرفتار افراد سے مختلف نوعیت کے دو سو آٹھ ہتھیار بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق منظور وسان نے دعویٰ کیا کہ پولیس اور رینجرز کی کارروائیوں کے بعد شہر میں صورتحال معمول پر آ گئی ہے مگر یہ آپریشن مکمل امن تک جا رہے گا۔

وسان کا کہنا تھا کہ جب تک ملزمان کو سزائیں نہیں ملیں گی اس وقت تک مستقل امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ نے بتایا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش کے لیے کراچی کے پانچوں اضلاع میں جوائنٹ انٹروگیشن ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

منظور وسان کے مطابق پولیس کی صلاحیت میں اضافے کے لیے پانچ ارب روپے کا پیکیج دیا گیا ہے اور پندرہ بکتر بندگاڑیاں خریدی گئی ہیں جبکہ مزید پندرہ گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں جو شورش زدہ علاقوں میں کارروائیوں کے لیے کارگر ثابت ہوں گی۔

منظور وسان نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ ٹارگٹ کلرز کو چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے لیکن میں اس بھائی کو کہوں گا کہ آپ کو سندھ اور پاکستان سے اتنی محبت تھی تو یہ خیال پہلے کیوں نہیں آیا؟ آپ کے پاس تین سال وزارت داخلہ تھی اس وقت کچھ کیوں نہیں کیا۔

سپریم کورٹ میں کراچی کی صورتحال پر از خود نوٹس کے بارے میں منظور وسان کا کہنا تھا کہ یہ اچھا اقدام ہے مگر کیا یہ اچھا ہوتا کہ پنجاب اور بلوچستان کی صورتحال کا بھی اسی طرح نوٹس لیا جاتا۔

اسی بارے میں