لاہور:’ کمرہ عدالت کے باہر قیدی کی شادی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی جیل میں عمر قید کی سزا کاٹنے والا ایک نوجوان قیدی اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے بعد کمرہ عدالت کے باہر اپنی پسند کی لڑکی سے نکاح کر کے شادی کے بندھن میں بندھ گیا۔

نوجوان قیدی زوہیب اطہر کو پولیس مقابلہ کرنے کے الزام میں چودہ برس قید کی سزا ہوئی تھی اور ان کی ابھی لگ بھگ آٹھ برس کی قید باقی ہے۔

چوبیس سالہ زوہیب اطہر کو مقدمہ کی سماعت کے سلسلے میں مقامی مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیاجہاں عدالت کے باہر زوہیب کا اپنی کلاس فیلو عاصمہ ریاض کے نکاح ساتھ ہوا۔

ضلع کچہری کی حدود میں ہونے والے اس نکاح میں نوجوان قیدی کے والد اور دیگر رشتہ داروں موجود تھے تاہم لڑکی کے رشتہ دار اس نکاح میں شریک نہیں ہوئے۔

مقدمے کی سماعت کے بعد کمرہ عدالت کے باہر نکاح خواں نے نوجوان قیدی کا نکاح پڑھایا اور کمرے عدالت کے باہر موجود لوگوں میں خوشی کی رسم کے طور پر چھوہارے بھی تقیسم کیے گئے ۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق زوہیب اطہر اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہے اور اسے سنہ دو ہزار پانچ کو ایک پولیس مقابلے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور دو ہزار سات میں لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ملزم کو چودہ برس قید کی سزا سنائی تھی۔

قیدی زوہیب چھ برس کی قید کاٹ چکا ہے اور اس نوجوان قیدی نے اپنی سزا کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کر رکھی ہے۔

قیدی زوہیب کے والد اطہر ضمیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا بیٹا اور بہو ایک دوسرے کو سکول کے زمانے سے پسند کرتے ہیں اور ان دونوں کی یہ خواہش تھی کہ ان کی شادی ہو جائے۔

قیدی کے والد کا کہنا ہے کہ یہ امید تھی کہ مقدمہ جلد ختم ہوجائے گا اور رہائی کے بعد دونوں کی شادی کی کر دی جائے گی لیکن مقدمہ طویل ہو گیا۔

انہوں نے بتایا کہ سزا کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے لیکن دو برس سے اپیل پر کارروائی نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے انہوں نے ان حالات میں شادی کرنے کا فیصلہ کیا اور بقول قیدی کے والد کے انہوں نے بچوں کی شادی کی خواہش کو پورا کیا ہے۔

اطہر ضمیر کے بقول جہاں انہیں اپنے بیٹے کی شادی کی بہت خوشی ہے وہیں انہیں اس بات کا گہرا دکھ اور افسوس ہے کہ ان کے بیٹا کی شادی کن حالات میں ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کونسا باپ ہوگا کہ جو یہ چاہے گا کہ اس کے بیٹے کی شادی ہو اور بیٹا خوشی منانے کے بجائے جیل جائے۔

قیدی زوہیب اطہر کے والد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کی شادی اس سوچ کے ساتھ کی ہے کہ دو تقدیروں کے ملنے سے ہو سکتا ہے کہ کوئی راہ نکل آئے اور ان کے بیٹے کو جلد رہائی ملے۔