سیاسی جماعتوں کے اندر مسلح گروہ ہیں: چیف جسٹس

Image caption ایم کیو ایم نے تشدد کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی فہرستیں بھی عدالت میں پیش کیں۔

آئی ایس آئی کے حکام نے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کو کراچی کی صورتحال، اس کی وجوہات اور پس منظر کے بارے میں چیف جسٹس کے چیمبر میں بریفنگ دی ہے۔

سپریم کورٹ میں کراچی میں بدامنی کے بارے میں از خود نوٹس کی سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے عدالت کو درخواست کی گئی تھی کہ یہ بریفنگ چیمبر میں سنی جائے جسے قبول کیا گیا۔

اس سے قبل ایم کیو ایم کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم کو دلائل کے وقت جج صاحبان کےتند و تیز سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ حکومت لوگوں کے جان اور مال کے تحفظ میں ناکام ثابت ہوئی ہے، عدالت کی مداخلت کے بعد صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا بہتری آئی ہے؟ گزشتہ روز بھی دو لاشیں ملیں ہیں تاہم فروغ نسیم نے انہیں جواب دیا کہ صورتحال پہلے سے کافی بہتر ہے۔

فروغ نسیم نے بھارتی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا جس کے تحت غیر سیاسی اور غیر جانبدرانہ تفتیش کاروں اور پولیس کی تعیناتی کے بغیر شفاف ٹرائل کی امید نہیں کی جاسکتی۔ فروغ نسیم کا موقف تھا کہ شفاف تحقیقات سیاسی وابستگی کی وجہ سے ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں تین باتیں ہیں جس کی وجہ سے حکام کام نہیں کرتے: وہ نااہل ہیں، دانستہ طور پر کام نہیں کرتے یا جرائم پیشہ افراد چالاک ہیں۔

چیف جسٹس نے ان سے مخاطب ہوکر کہا کہ ’آپ کی باتوں سے تو ایسا لگتا ہے کہ عدالت آگئی ہے ادارے متحرک ہوگئے ہیں مستقبل محفوظ ہے اور ماضی کو بھول جائیں جس پر فروغ نسیم کا کہنا تھا ان کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے۔‘

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ماحول میں اشتعال ہے غیر جانبدار لوگ کہاں سے آئیں گے۔ ہزاروں مقدمات ہیں اتنے افسر کہاں سے تعینات کیے جائیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کراچی میں موجودگی کے باوجود ہلاکتوں اور اغوا کا سلسلہ جاری ہے، ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی، اے این پی، سنی تحریک الزام در الزام عائد کر رہی ہیں، جب تک ماحول غیر جانبدار نہیں ہوگا صورتحال میں بہتری نہیں آسکتی۔‘

چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے اندر مسلح گروہ بنائے جا رہے ہیں۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ ’اگر تمام سیاسی جماعتیں اپنی صفوں میں سے جرائم پیشہ افراد کو نکال دیں تو یہ خطہ دنیا کا پرامن خطہ بن جائے گا، یہاں جماعتوں میں جرائم پیشہ گروہوں موجود ہیں جنہوں نے لوگوں کو یرغمال بنا کر رکھا ہے۔‘

اس موقع پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ساری جماعتوں کے پاس مسلح گروہ ہیں۔ ان جماعتوں کے منشور دیکھیں ان میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی۔

فروغ نسیم نے تجویز پیش کی کہ پولیس، رینجرز، انٹیلی جنس ادارے واقعات کی تحقیقات کریں، ہائی کورٹ کا جج اس کی نگرانی کرے، جس کے بعد کوئی یہ الزام عائد نہیں کرے گا کہ افسر متعصب تھا۔

جسٹس انور ظہیر نے ان سے مخاطب ہوکر کہا کہ جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم بھی ان ہی اداروں پر مشتمل ہوتی ہے جس کی رپورٹ کوتسلیم نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس کے جواب میں فروغ نسیم نے کہا کہ وہ تو یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جو بھی ملزم ہے اس سزا دی جائے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ ’کوئی سیاسی جماعت ہڑتال کا اعلان کرتی ہے، شام تک بیس تیس گاڑیاں جلتی ہیں، پندرہ لوگ ہلاک ہوجاتے ہیں مگر کوئی اس کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا حالانکہ ہڑتال کا پس منظر تو سیاسی ہوتا ہے‘۔

ایک موقع پر فروغ نسیم نے کہا کہ بے قصور مہاجروں کو اغوا کرکے قتل کیا گیا جس پر جسٹس سرمد جلال نے ان سے مخاطب ہوکر کہا کہ ’کیا صرف اردو بولنے والے معصوم ہوتے ہیں، پٹھان اور بلوچ بے قصور اور معصوم نہیں ہیں‘۔

ایک اور موقع پر جب فروغ نسیم نے کہا کہ لیاری گینگ وار کے لوگ شہریوں کو اغوا کرکے قتل کرتے ہیں، تو جسٹس غلام ربانی نے ان سے سوال کیا کہ وہ صرف لیاری کی بات کیوں کرتے ہیں پورے شہر کی بات کریں۔

اس سے پہلے جمعرات کو عدالت نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی فریق بننے کے لیے درخواست منظور کر لی تھی۔ ایم کیو ایم کی جانب سے سابق ایڈووکیٹ جنرل سندھ فروغ نسیم نے عدالت کو بتایا کہ ایم کیو ایم کراچی میں ایک اہم سیاسی مقام رکھتی ہے لیکن مختلف فریق اس پر بے بنیاد الزامات عائد کر رہے ہیں جس پر ایم کیو ایم نے عدالت کی معاونت کرنے اور حقائق سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ رواں سال ایم کیو ایم کے دو سو تیس کارکن اور ہمدرد ہلاک ہوئے جن میں سے تینتالیس کو اغواء کیا گیا۔

فروغ نسیم نے تشدد کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی فہرستیں بھی عدالت میں پیش کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لیاری میں پیپلز امن کمیٹی کے افراد نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو اغواء کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی نگرانی میں دہشت گردوں نے مسافر بسوں سے مہاجر نوجوانوں کو شناخت کر کے ان کا قتل کیا۔

انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی لیاری، قصبہ کالونی اور گلستانِ جوہر میں چوکیاں قائم ہیں جہاں پر اس وقت کسی بھی ادارے کا اہلکار موجود نہیں ہے۔

فروغ نسیم نے تمام جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلاتفریق کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نےموجودہ حکومت میں جاری کیے گئے تین لاکھ اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے اور پولیس میں سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی دس ہزار بھرتیاں بھی منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ان کے دلائل کے دوران ان سے دریافت کیا کہ ’آپ نے بھتہ وصولی کی روک تھام کے بارے میں کوئی تجویز نہیں دی جس پر انہوں نے کہا کہ ہم چندہ اور بھتہ وصولی سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے سنہ دو ہزار دو میں منصب سنبھالنے کے چند دن میں کراچی میں بھتہ وصولی کے حوالے سے ایک آرڈیننس جاری کیا تھاجس کے تحت گھروں پر جاکر چندہ نہیں لیا جاسکتا۔ اس آرڈیننس کی خلاف ورزی پر تین ماہ کی قید اور دس ہزار روپے جرمانہ کی سزا ہے۔

اسی بارے میں