’ہندووں کی املاک پر حملے، رینجرز طلب‘

Image caption شہر میں ہندو برادری خوف کا شکار ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر پنو عاقل میں حکام نے ہندو برادری کی دکانوں اور مکانات پر حملوں کے واقعات کے بعد رینجرز کو طلب کر لیا ہے۔

پنو عاقل شہر میں بدھ کو ایک ہندو شخص کی ایک مسلمان طالبہ کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی کوشش کرنے کے واقعے کے بعد جمعرات کو نامعلوم افراد نے شہر میں ہندو برادری کے کاروبار اور مکانوں پر حملے کیے۔

صحافی علی حسن کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں ایک ہندو شہری کا مکان لوٹ لیا گیا اور اس دوران ان کا ایک بیٹا زخمی ہو گیا۔

شہر کے قریبی دیہاتوں سے موٹر سائیکلیوں پر آنے والے نامعلوم حملہ آوروں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے فائرنگ کی اور اس دوران ایک شخص زاہد میرانی ہلاک ہو گیا۔

سکھر کے ضلعی پولیس افسر کا کہنا ہے کہ زاہد میرانی ایک جرائم پیشہ شخص تھا اور اس نے شہر میں ہندووں پر بلا امتیاز حملہ کیا اور اس دوران ایک تاجر کا مکان لوٹا گیا اور تین دکانوں کو نذرآتش کیا گیا۔

ضلعی پولیس افسر کے مطابق طالبہ کے والدین نے اپنی بیٹی کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی کوشش کرنے کے واقعے کی رپورٹ درج کرائی ہے۔

شہر میں جمعرات کو ہندووں پر حملوں کے بعد انتظامیہ نے نیم فوجی دستے ریجنرز کو طلب کر لیا ہے، جس نے شہر میں گشت شروع کر دیا ہے۔

اسی بارے میں