سندھ میں ملیریا کے مرض میں اضافہ

سیلاب متاثرہعلاقوں میں ایک بچہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بارش کے بعد سندھ میں ابھی تک پانی جمع ہے اور ملیریا پھیلنے کے امکانات بڑھ گئےہیں

پاکستان کےصوبہ سندھ میں محکمہ صحت کےحکام نےتصدیق کی ہےکہ گزشتہ دو سالوں کی نسبت اس سال ملیریا کے مریضوں کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔

ملیریا کنٹرول پروگرام کی صوبائی ڈائریکٹر ڈاکٹر ناہید جمالی نے بی بی سی کے حسن کازمی کوبتایا ہے کہ اس سال بارش کے بعد سےسندھ کے اکثر اضلاع میں ابھی تک پانی جمع ہے اور ان علاقوں میں ملیریا پھیلنے کےامکانات بڑھ گئےہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سولہ اگست سے اب تک سات ہزار ستاون افراد میں میلریا کی تصدیق ہوچکی ہے جن میں پانچ ہزار ایک سو چورانوے افراد میں وائی ویکس ملیریا جبکہ ایک ہزار پانچ سو پچھتر افراد میں فیلسی پیرم ملیریا کی تشخیص کی گئی ہے، جبکہ دو سو اٹھاسی افراد میں مکس ملیریا کی تشخیص ہوئی ہے۔

ڈاکٹر ناہید جمالی نے بتایا کہ ان میں فیلسی پیرم ملیریا زیادہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ اس میں انسانی اعضاء کے متاثر ہونے کا خطرہ ہوتاہے اور یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتاہے۔

ملیریا کی روک تھام کے لیے عالمی ادارہ صحت کے پروگرام کےرابطہ افسر ڈاکٹر قطب الدین کاکڑ نےبی بی سی کو بتایا کہ سندھ ملیریا کے پھیلاؤ کا گڑھ بن گیا ہے خاص کر فیلسی پیرم ملیریا کے کافی مریض بڑھ رہے ہیں جبکہ کراچی میں بھی بارش کے بعد سے اس مرض میں کافی اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں لوگ بڑٰے تعداد میں سیلاب سے بےگھر ہوئےہیں اور کُھلے آسمان کے نیچے پڑے ہیں جو مرض کے پھیلنے کی وجہ بن رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اندرونِ سندھ کئی علاقوں میں طبی سہولتیں میسر نہیں ہیں اور مقامی ڈاکٹرز اپنے تجربے کی بنیاد پرتشخیص کرتے ہیں اسی لیے انہیں مشکوک ملیریا کیس سمجھا جاتا ہے۔

ان کے مطابق اگست کے آغاز سے اب تک ملیریا کے اڑسٹھ ہزار دو سو چوالیس مشکوک مریض سامنے آئے ہیں۔

ڈاکٹر قطب الدین کاکڑ کا کہنا تھا کہ اندرونِ سندھ کی نسبت کراچی میں اس کی شدت اب بھی کم ہے ۔

کراچی میں عوام کی اکثریت علاج کے لیے نجی ہسپتالوں یا دوا خانوں کا رخ کرتی ہے وہاں کام کرنے والے ڈاکٹرز کا دعوٰی ہے کہ ملیریا کا یہ مرض کراچی میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔

عباسی شہید ہسپتال کے پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر سلیم اللہ کا کہنا ہے کہ ان کے ہسپتال میں ملیریا کے بیس سے پچیس مریض داخل رہتے ہیں اور او پی ڈی میں یہ تعداد اور بھی زیادہ ہے۔

ڈاکٹر سلیم اللہ کا کہنا تھا کہ اس سال انہوں نے وائی ویکس ملیریا کے علاج کے لیے دی جانے والی دوا کلوروکوئین کے خلاف مزاحمت بھی دیکھی ہے۔ خود ان کے ہسپتال میں دو اور ان کے نجی کلینک میں ایک مریض اس سال وائی ویکس ملیریا سے ہلاک بھی ہوا ۔ انہوں واضع کیا کہ یہ ان کا مشاہدہ ہے اور طبی طور پر ابھی اس کی مکمل تحقیقات ہونا باقی ہیں۔

تاہم ڈاکٹر سلیم اللہ کے دعوے پر ملیریا کنٹرول پروگرام کی صوبائی ڈائریکٹر ڈاکٹر ناہید جمالی نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو عباسی شہید ہسپتال کو یہ بات ڈائریکٹوریٹ آف ملیریا کو بتانی چاہیے، تاکہ تحقیقات کی جاسکیں، کیونکہ ان کے پاس ابھی تک ملیریا سے کسی شخص کی موت کی کوئی اطلاع نہیں۔

انہوں نے کہا کہ امکان ہے کہ ڈاکٹر اسے رپورٹ نہیں کر رہے ہیں کیونکہ اس سے پھر مریض کے مرض اور اس کے علاج کی مکمل تفصیل فراہم کرنی ہوتی ہے اور ممکن ہے کہ ڈاکٹرز اس سے بچنا چاہتے ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی یہ جاننے میں دلچسپی رکھتی ہیں کہ ملیریا سے کتنی اب تک کتنی اموات ہوئی ہیں ۔

تاہم ڈاکٹر ناہید جمالی نے یہ بات تسلیم کی کہ ملیریا کی دوا کلوروکوئین کےخلاف مزاحمت دیکھنے میں آرہی ہے اور ان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بہت سے ڈاکٹر بخار میں مبتلاء ہر مریض کوکلوروکوئین دے دیتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بخار ہونے کی کئی اور وجوہات بھی ہوتی ہیں مگر اکثر ڈاکٹرز یہ سوچ کر کہ ملیریا کا موسم ہے ہر مریض کو کلوروکوئین تجویز کردیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے اس معاملےکا جائزہ لیاجارہا ہے اور ٹھٹہ میں کچھ ابتدائی جائزے لیےگئے ہیں لیکن حتمی نتائج آنے میں وقت لگےگا۔

اسی بارے میں