’ناقص سکیورٹی، بلوچستان کی ترقّی میں رکاوٹ‘

فائل فوٹو
Image caption بلوچستان میں سرگرم مسلح افراد کسی کو بھی ترقیاتی کام نہیں کرنے دے رہے

بلوچستان کے زیادہ تر منتخب نمائندوں نے صوبائی حکومت سے امن وامان کے مزید اقدامات کرنے کامطالبہ کیا ہے تاکہ صوبے میں ترقیاتی عمل کو تیز کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں گزشتہ کئی سالوں سے امن وامان کی ابتر صورتحال کے باعث ترقیاتی عمل سخت متاثر ہوا ہے۔

کے مطابق سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس جمعہ کو کوئٹہ میں منعقد ہوا۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین نے بتایا کہ سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے مواصلات کے چیرمین ولی محمد بادینی، وفاقی وزیر مواصلات اربات عالم گیر،سنیٹرعبدالرحیم مندوخیل، سینٹراسماعیل بلیدی، چیف سیکرٹری حکومت بلوچستان احمدبخش لہڑی، صوبائی سیکرٹری داخلہ نصیب اللہ بازئی اور آئی جی پولیس راؤ محمدہاشم کے علاوہ دیگراعلی حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں بلوچستان سے منتخب سینٹروں نے صوبے میں امن وامان کی مخدوش صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت امن وامان برقرار رکھنے میں ناکام ہوچکی ہے جس سے باعث کئی بڑے ترقیاتی منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوسکے ہیں۔

سینٹ میں قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے چیرمین اور پیپلزپارٹی کےسنیٹر ولی محمد بادینی نے کہا کہ صوبے میں امن وامان نہ ہونے کے برابر ہے کوئٹہ شہر اور صوبے کے دیگرعلاقوں میں جوکچھ ہورہاہے اس سے سڑکوں کی تعمیر اور دیگرترقیاتی کام سخت متاثرہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’مسلح افراد کسی کو ترقیاتی کام نہیں کرنے دے رہے اور ترقیاتی کمپنیوں کے لوگ مارے جارہے ہیں لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہورہی۔‘

اس موقع پر پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر میر صادق عمرانی نے کہا کہ اسلام آباد کی حکومت نے گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی اور وزیراعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کو صوبے میں قیام امن کے لیے تمام اختیارات دے دیدے ہیں لیکن اس کے باوجود صوبائی حکومت امن وامان برقرار رکھنے میں ناکام ہوچکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کا مسئلہ صوبائی حکومت کا ہے لیکن امن وامان کی خراب صورتحال کی وجہ سے لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

میر صادق عمرانی نے کہا کہ ’یہاں ترقی نام کی کوئی چیز نہیں ہے جو رقم صوبے کو ملتی ہے وہ کرپشن کی نظر ہوجاتی ہے۔ لوٹنے کا عمل، کھانے کا عمل اور کرپیشن بہت زیادہ ہے لیکن ترقیاتی کاموں پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔‘

اس موقع پر جمیعت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اسماعیل بلیدی نے الزام عائد کیا کہ ’بلوچستان کے ترقیاتی فنڈز صدر اور وزیر اعظم کے حلقہء انتخاب لاڑکانہ اور ملتان میں خرچ ہورہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھاکہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کو ترقیاتی فنڈز دینے کے حوالے سے ہمیشہ نظرانداز کیاہے اور اس مقصد کے لیے مختص تھوڑی بہت رقم بھی دوسرے صوبوں میں خرچ کی جا رہی ہے جس کے باعث کوئٹہ سے قلات اور کوئٹہ سے چمن تک بین الاقوامی شاہراہ گذشتہ چھ سال میں نہیں بن سکی ہے۔ شاہراہ کی ناقص حالت کی وجہ سے یہاں حادثات کی صورت میں ہلاکتیں ہورہی ہیں۔

تاہم وفاقی وزیر مواصلات ارباب عالمگیر نے سنیٹر اسماعیل بلیدی کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت مالی مشکلات سے دوچار ہے اور زیادہ تر رقم ملکی دفاع، امن وامان اور قرضوں کی واپسی پر خرچ ہورہی ہے اس کے باوجود بلوچستان میں چھ ترقیاتی منصوبے اس سال کے آخرتک مکمل کیے جائینگے۔

ارباب عالمگیر نے مزید کہا کہ گوادر سے کوئٹہ اور قلات سے چمن تک سڑک کی عدم تعمیرکی وجہ سے بلوچستان کے لوگوں کو کئی مشکلات درپیش ہیں جس کا وفاقی حکومت کو احساس بھی ہے لیکن گزشتہ سال ملک میں آنے والے سیلاب سے ملک بھرمیں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص بجٹ میں پچاس فیصد کمی ہوئی جس کی وجہ سے بہت نقصان ہوا۔

ارباب عالمگیر نے کہا کہ ’اس سال ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص بجٹ سے بلوچستان میں سڑکوں کے چھ منصوبے مکمل ہوجائیں گے جس کے لیے وفاقی حکومت نے بلوچستان کے لیے آٹھ اعشاریہ نو ارب روپے رکھے ہیں۔‘

وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی اسلام آباد میں مصروفیات کے باعث جمعہ کو کوئٹہ میں ہونے والے سینیٹ کے سٹینڈنگ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں شرکت نہ کرسکے جس پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والےکئی سنیٹروں نے تشویش کا اظہار کیا۔

اسی بارے میں