’پولیس اہلکاروں میں تیس فیصد سیاسی ہمدرد ہیں‘

صوبہ سندھ کے پولیس سربراہ واجد درانی نے اعتراف کیا ہے کہ پولیس میں تیس سے چالیس فیصد سیاسی ہمدردی رکھنے والے اہلکار موجود ہیں جو مسائل پیدا کر رہے ہیں۔

یہ بیان صوبۂ سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس واجد درانی نے کراچی میں بدامنی کے بارے میں از خود نوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں دیا۔

کراچی میں پولیس کی کارکردگی کے بارے میں آئی جی سندھ واجد درانی نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کے تیس سے چالیس فیصد اہلکار سیاسی ہمدردیاں رکھتے ہیں جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جیسے جیسے معلومات حاصل ہو رہی ہیں ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ پولیس آرڈر سنہ دو ہزار دو منسوخ کر کے پولیس ایکٹ بحال کردیا گیا ہے جس کے بعد وہ کسی ڈی ایس پی کو معطل تک نہیں کرسکتے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ پولیس آرڈر سنہ دو ہزار دو کو سترہویں آئینی ترمیم میں تحفظ حاصل تھا اور اس آرڈر کے تحت تو آئی جی مکمل آزاد اور خود مختار ہوتا تھا۔

کورنگی میں پولیس کی بس پر فائرنگ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے کہا کہ اس مقدمے میں نامزد دو ملزمان عاطف اور عبدالحکیم آزاد ہوچکے ہیں کیونکہ انہیں غلط نامزد کیا گیا تھا۔

ایڈیشنل آئی جی سعود مرزا نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے کے تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے، جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ غلط ایف آئی آر ایس ایچ او نے دائر کی، کارروائی تفتیشی افسر کے خلاف کی گئی ہے، جس پر سعود مرزا نے بتایا کہ ایس ایچ او کو پہلے ہی ہٹا دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پولیس حکام سے مخاطب ہوکر کہا ’ہمیں ایسی باتوں کا علم ہوا ہے جو یہاں بیان نہیں کی جاسکتیں، وہ ملک کے لیے کام کر رہے ہیں‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز آئی ایس آئی کی جانب سے جج صاحبان کو چیمبر میں کراچی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی تھی۔ بعد ازاں انٹلیجنس بیورو نے اپنی رپورٹ چیمبر میں جج صاحبان کو فراہم کر دی۔

چیف جسٹس نے آئی جی سندھ کو مخاطب کر کے کہا کہ ان پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اب رینجرز بھی ان کی مدد کے لیے موجود ہے، وہ دوبارہ کہتے ہیں کہ ذمہ داروں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی، یہ تمام جماعتیں عدالت میں کہہ چکی ہیں کہ وہ شہر میں امن چاہتی ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی سعود مرزا نے ایک مرتبہ پھر عدالت سے گزارش کی کہ پولیس کو موبائل فون نمبر کا سراغ لگانے میں دشواری ہو رہی ہے وہ موبائل کمپنیوں کے لیے ہدایت جاری کریں کہ وہ جلد از جلد ڈیٹا فراہم کیا کریں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ان سے سوال کیا کہ اس کا غلط استعمال تو نہیں ہوگا۔ سعود مرزا نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ درخواست کے ساتھ ایف آئی آر کی نقل بھی فراہم کریں گے اور ایس پی سطح کا افسر اس کی پیروی کرے گا۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کس کو ہدایت جاری کی جائیں۔ ایڈیشنل آئی جی نے انہیں بتایا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یعنی پی ٹی اے کو ہدایت جاری کی جائیں۔

وفاقی حکومت کی معاونت کے لیے مقرر وکیل بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ وہ سترہ روز تک انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محکمہ کہ وزیر رہے ہیں، پی ٹی اے ریگولیٹری اتھارٹی ہے جو خود مختار ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ تو ٹھیک ہے مگر ہدایت کس کو جاری کی جائے۔

بابر اعوان نے بتایا کہ کوئی افسر مقرر کیا جائے ورنہ یہ راستہ سب کے لیے کھل جائے گا، جس پر چیف جسٹس نے آئی جی کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ خود تیس فیصد اہلکاروں کی نشاندہی کرچکے ہیں۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل آئی جی سعود مرزا کا نام تجویز کرتے ہوئے کہا کہ ان پر انہیں اور آئی جی کو اعتماد حاصل ہے، انہیں فوکل پرسن بنایا جائے۔

اس موقع پر سعود مرزا نے عدالت سے ایک اور درخواست کی کہ سٹیٹ بینک کو یہ ہدایت کی جائے کہ جن کریڈٹ کارڈز کا غلط استعمال کیا جاتا ہے ان کی ویڈیو فوٹیج بینک انہیں جلد از جلد فراہم کریں، جس پر جسٹس سرمد جلال نے انہیں مخاطب کر کے استفسار کیا کہ یہ بھی آپ کو دستیاب نہیں ہے۔

سعود مرزا نے بتایا کہ اس کارروائی میں کافی وقت لگ جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں چین کے بنے ہوئے کئی موبائل ٹیلیفون دستیاب ہیں جن کے آئی ایم ای آئی نمبر یکساں ہیں جس کی وجہ سے ان کا سراغ لگانے میں دشواری ہوتی ہے، لہذٰا کسٹم حکام کو ہدایت کی جائے کہ وہ اس کی روک تھام کریں۔

اسی بارے میں