’پاکستان جاؤں گا، چاہے گرفتار کر لیں‘

Image caption پرویز مشرف نے گزشتہ سال’آل پاکستان مسلم لیگ‘ نامی نئی سیاسی جماعت کی بیناد رکھی ہے

پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا کہ وہ اعلان کے مطابق مارچ سال دو ہزار بارہ میں پاکستان جائیں گے چاہے انھیں وہاں گرفتار ہی کیوں نہ کر لیا جائے۔

سابق صدر پرویز مشرف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ میں واپس جاوں گا، انھیں مجھے گرفتار کر لینے دیں۔‘

واضح رہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والی راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے پرویز مشرف کے خلاف رواں سال فروری میں ناقابلِ ضمانت ورانٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔گزشتہ ماہ اگست میں عدالت نے اسی مقدمے میں صدر پرویز مشرف کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔

مشرف کی جائیدار ضبط کرنے کا حکم

’مشرف کا استقبال چیف جسٹس کریں گے‘

سابق صدر کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کیس بے بنیاد اور سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ’ کسی بھی تخیلاتی، کسی بھی قانونی اور آئینی تجزیے کے مطابق میں ان ’ بینظر بھٹو‘ کے قتل میں ملوث نہیں ہوں، تو میں جانتا ہوں کہ یہ کیس ایک فریب ہے اور میں اس سے نمٹنے کے قابل ہوں گا۔‘

واضح رہے کہ پرویز مشرف نے سیاسی زندگی شروع کرنے کے لیے آئندہ سال مارچ میں پاکستان آنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

پاکستان میں مشرف کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ ’ماضی کا قصہ‘ ہیں اور ان کی کوئی سیاسی حمایت نہیں ہے تاہم پاکستانی نقطۃ نظر سے یہ بات اہم ہے کہ فوج کیا کرتی ہے، آیا واقعی وہ ایک بار پھر اپنے سابق باس کو معاملات کی قیادت کرتا دیکھنا چاہتی ہے۔

اس اہم سوال کا جواب آئندہ چھ ماہ میں مل جائے گا کہ کیا وہ پاکستانی سیاست کے مستقبل کا حصہ ہونگے یا نہیں۔

سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نائن الیون حملوں کی دسویں برسی کے موقع پر دوبارہ خبروں میں آئے ہیں، جیسے کس طرح انھیں اس وقت سخت انتخاب کا سامنا کرنا پڑا اور پاکستان کے امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی بننے کے فیصلے کے متعلق ہیں۔

پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ میں پاکستان نے کسی بھی ملک سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔

خیال رہے کہ جنرل پرویز مشرف نے دو سال قبل اٹھارہ اگست دو ہزار آٹھ کو صدر پاکستان کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور کچھ عرصہ پاکستان میں رہنے کے بعد وہ بیرون ملک چلے گئے اور اب لندن میں رہائش پذیر ہیں۔

اسی بارے میں