’سندھ میں بارشوں اور سیلاب سے چالیس لاکھ بے گھر‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مجموعی طور پر بارشوں اور سیلاب سے 21 اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں چالیس لاکھ لوگ بے گھر ہوگئے ہیں اور خبردار کیا ہے کہ موجود بارشوں کا سلسلہ صورتحال کو مزید ابتر بناسکتا ہے۔

سنیچر کی رات ٹی وی پر قوم سے خطاب میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی برادری صدر پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی امداد کی اپیل پر ہمدردانہ غور کر کے انسانی بنیادوں پر فوری اقدامات کرے گی اور ہم متاثرہ لوگوں کی آبادکاری اور بحالی کے لیے اپنی کوششوں کو تیز تر کرسکیں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار احمد رضا کے مطابق، حالیہ بارشیں اس علاقے میں ہونے والی اوسط بارش سے ایک سو بیالیس فیصد زیادہ ہیں۔

Image caption حالیہ بارشیں اس علاقے میں ہونے والی اوسط بارش سے ایک سو بیالیس فیصد زیادہ ہیں۔

ابتدائی طور پر بدین، میرپورخاص، ٹنڈو محمد خان اور ٹنڈوالہ یار کے علاقے بری طرح متاثر ہوئے۔

بارشوں کے دوسرے سلسلے میں بے نظیر آباد (نوابشاہ)، عمرکوٹ، خیرپور، جامشورو، نوشہروفیروز اور تھرپارکر کے علاقے بھی شدید متاثر ہوئے۔

مجموعی طور پر بارشوں اور سیلاب سے 21 اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ بارشوں کے نتیجے میں سندھ میں اکتالیس لاکھ ایکڑ کا علاقہ زیر آب آچکا ہے جبکہ چالیس لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں اور 141 قیمتی جانیں ضائع ہوگئی ہیں۔

ان کے بقول سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے اب تک چار ہزار امدادی کیمپ قائم کیے جاچکے ہیں جہاں چالیس لاکھ میں سے ایک لاکھ پچاس ہزار متاثرین کو منتقل کردیا گیا ہے۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں سترہ لاکھ ایکڑ سے زیادہ رقبے پر کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اس کے علاوہ چونسٹھ ہزار مویشی سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں جبکہ تقریباً سات لاکھ مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا ’اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے ہماری حکومت نے کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر امدادی کاموں کا آغاز کیا اور ہم تمام میسّر وسائل کو بروئے کار لارہے ہیں۔‘

ان کے بقول حکومت نے خیمے تیار کرنے والے اداروں سے آئندہ تین ہفتوں میں ایک لاکھ اضافی خیمے مہیّا کرنے کا بھی بندوبست کیا ہے۔

’اس کے علاوہ ہم یہ انتظام بھی کررہے ہیں کہ متاثرہ خاندانوں میں ہر روز ایک لاکھ فیملی راشن بیگس تقسیم کیے جائیں۔‘

وزیراعظم نے کہا ’وفاقی حکومت نے سندھ کے متاثرین کو اب تک دو ارب روپے سے زیادہ مالیت کی امداد فراہم کی ہے جس میں خیمے، ادویات، خوراک، صاف پانی اور دوسری ضروریات زندگی کی اشیاء شامل ہیں۔ توقع ہے کہ اس امداد کے تسلسل میں تیس ستمبر تک یہ رقم تقریباً سات ارب تک ہوجائے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption متاثرہ خاندانوں میں ہر روز ایک لاکھ فیملی راشن بیگس تقسیم کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرین کی بحالی اور آبادکاری اور تعمیر نو کے اخراجات کا انحصار مون سو ن کے بعد کیے جانے والے سروے پر ہوگا۔

وزیراعظم نے نیشنل ڈزآسٹر منیجمینٹ اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام متاثرہ علاقوں میں ٹیلی ہیلتھ کی سہولت فراہم کرے۔

وزیر اعظم گیلانی نے خبردار کیا کہ موسمی حالات میں تبدیلی کے باعث غیرمعمولی بارشوں کا سلسلسہ موجودہ صورتحال کو مزید ابتر بناسکتا ہے جس کے نتیجے میں ان علاقوں میں جہاں پہلے ہی تباہی پھیلی ہوئی ہے صورتحال چیلنج سے کم نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ متاثرین کی مدد کے لیے یقینی طور پر ہمیں اپنے موجودہ وسائل سے کہیں زیادہ وسائل کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر ہمیں ایک قوم کی حیثیت سے اپنے جذبہ ایمانی اور حب الوطنی اور باہمی اخوت کا ثبوت دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بارشوں سے متاثرہ افراد اپنے ہم وطنوں کے ساتھ ساتھ بیرون وطن مقیم پاکستانیوں اور دوستوں کی طرف سے مدد کے منتظر ہیں۔

اسی بارے میں