دہشت گردی کے خلاف تعاون کا عزم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

گیارہ ستمبر کے واقعہ کو دس برس گُزرنے کے موقع پر پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں پاکستان نے امریکہ اور دنیا کے ساتھ ملکر اُن لوگوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے جو ان حملوں میں ہلاک ہوئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی سے شدید متاثر ہوا ہے اور پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنے عزم کو دھراتا ہے۔

بیان میں پاکستان نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ رواداری، ہمدردی، بھائی چارے اور تمام اقوام کے ساتھ دوستی کی اعلی اقدار کو سربلند رکھے اور بہتر دنیا کی تعمیر کے لیے اپنے عزم کا اظہار کرے۔

نائن الیون کے واقعہ کے دس برس گُزرنے کے موقع پر پاکستان میں امریکی سفارت خانے میں سنیچر کی شب ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ اس تقریب میں امریکی سفارت خانے اور پاکستان کی وزارت خارجہ کے حکام نے شرکت کی تاہم کوئی وفاقی وزیر اس تقریب میں شریک نہیں ہوا۔

پاکستان جو شدت پسندی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی ہے تاہم اس دن کی مناسبت سے کسی قسم کی سرکاری تقریب کا اہتمام نہیں کیا گیا۔

صدر اور وزیر اعظم پاکستان میں موجود نہیں تھے۔ صدر آصف علی زرداری نجی دورے پر اس وقت برطانیہ میں ہیں جبکہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ایران کے دو روزہ دورے پر ہیں۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ جماعت اسلامی نے نائن الیون کے واقعہ کو دس سال گُزرنے پر امریکہ کے خلاف اسلام آباد کراچی، لاہور اور پشاور سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں اور سمینارز کا انعقاد کیا۔

مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے مرکزی قائدین کا کہنا تھا کہ نائن الیون کا واقعہ امریکہ کی طرف سے ایک خودساختہ ڈرامہ تھا جس کے بعد امریکی سیکورٹی فورسز نے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

اُنہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں چند سو امریکی شہری ہلاک ہوئے تھے لیکن اس کے ردعمل میں ہزاروں مسلمانوں کا ناحق قتل کیا گیا جس پر مسلمان ممالک سمیت عالمی برادری خاموش ہے۔

ان مظاہروں میں دوسری کسی مذہی جماعت نے حصہ نہیں لیا۔ نائن الیون کے واقعہ کو دس سال پورے ہونے کے موقع پر اسلام آباد سمیت دیگر بڑے شہروں میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گیے تھے۔ پولیس، رینجرز اور ایف سی کے خصوصی دستے غیر ملکی سفارت کاروں کی رہائش گاہوں کے اردگر تعینات کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں