تیسری بڑی سیاسی قوت کون؟

تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption عمران خان آئندہ انتخابات کے لیے پر امید ہیں

پاکستان میں اگر کل عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا جاتا ہے تو آپ کے خیال میں دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے بعد تیسری بڑی سیاسی قوت یا آپشن کون سی جماعت ہوسکتی ہے؟

جماعت اسلامی، متحدہ قومی موومنٹ یا پھر تحریک انصاف؟

لیکن تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ساتھ چند گھنٹے کی گفتگو کے بعد جب کسی نے مجھ سے پوچھا کہ کیسا محسوس ہوا تو میرا جواب تھا کہ ’عمران خان کا انتخابات جیتنے سے متعلق اعتماد دیکھ کر مجھے مزید خوف محسوس ہوا‘۔

اس کی چند اہم وجوہات ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان بحیثت بہترین کرکٹر اور فلاحی کارکن عوام میں بے پناہ مقبول ہیں ۔ وہ جہاں جائیں لوگ ان کے گرد جمع ہوجاتے ہیں، انہیں سر پر بیٹھاتے ہیں اور ان کی بات سنتے ہیں۔ لیکن کہیں وہ اس پزیرائی کو ان کی سیاسی حمایت تو نہیں سمجھ رہے؟

سیاست کی مثال اس بے کل اونٹ کی سی ہے جس کا آخری لمحے تک معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کس کروٹ بیٹھے گا۔

میری جس سے بھی بات ہوتی ہے وہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی مسائل کے حل میں ناکامی پر لعن طعن تو کرتا ہے لیکن اس مخمصے کا شکار بھی نظر آتا ہے کہ تیسری آپشن کی غیرموجودگی میں کسے ووٹ دے ۔

مذہبی جماعتوں کی تو اپنی ایک لگی بندھی ووٹ بینک ہے جو اسے ماسوائے نائن الیون کے بعد تھوڑی یا بہت کمی کے ساتھ ملتا رہتا ہے لیکن اصل مسئلہ تذبذب اور ناامیدی کے شکار ان ووٹروں کا ہے جو ووٹ ڈالنے کے لیے ہی نہیں آتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان ان ووٹروں کو کیش کر پائیں گے؟

تحریک انصاف کا خیال ہے کہ پندرہ سال کی اپوزیشن نے انہیں اس لائق بنا دیا ہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ لوگ بڑے بوڑھے خود ان کے پاس آتے ہیں اور انہیں حمایت کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ عمران خان کہتے ہیں کہ ’میں جہاں جاؤں لوگ خود جوق در جوق جماعت میں شامل ہو رہے ہیں اور مجھے یقین ہے یہ حمایت عام انتخابات تک سونامی کی صورت اختیار کر لے گی‘۔

لیکن اس سے قبل عمران خان اور ان کی جماعت کو بہت کچھ کرنا ہے۔ اِس وقت وہ لوگوں کی نظروں میں سیاسی جماعت سے زیادہ ’ون مین شو‘ دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسا ون مین جو ٹی وی کے ہر چینل پر ہر وقت آپ کو بیٹھا ملے گا۔ ایسی جماعت جس میں عمران ہی عمران ہیں دوسرا کوئی نہیں۔

عمران کہتے ہیں کہ ٹی وی بہت طاقتور ذریعہ ہے لوگوں تک پہنچنے کا اور وہ یہ ماننے کو بظاہر تیار نہیں کہ ٹی وی پر زیادہ نظرآنا نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی ایک مشکل یہ ہے کہ ٹی وی والے شیخ رشید کی طرح ان کے علاوہ ان کی جماعت سے کسی کو بلانا ہی نہیں چاہتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عمران خان بحیثت بہترین کرکٹر اور فلاحی کارکن عوام میں بے پناہ مقبول ہیں

ارے بھائی آپ نا کریں گے تو شاید وہ مدعو کر بھی لیں۔

جہاں تک ایک متحرک ٹیم تشکیل دینے کی بات ہے تو عمران خان کے بقول اچھے، ایماندار اور باکردار شخصیات کو تلاش کرنے میں دیر لگ رہی ہے۔ ’میں ایسے لوگوں کو سامنے لانا چاہتا ہوں جو اس ملک کو اقتصادی بحران کی دلدل سے نکال سکیں۔ جو مفید ہوں، موافق ہوں‘۔

یہ ٹاسک جتنا جلد مکمل ہو اتنا عمران خان کے لیے بہتر ہوگا۔

تحریک انصاف کے لیے کس ایشو پر آئندہ انتخابات لڑنا مفید ہوگا؟ یہ اہم ترین سوال اس کی ہار جیت میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ عمران خان سمجھتے ہیں کہ یہ موضوع بدعنوانی ہونا چاہیے۔ تاہم شاید میرے جیسے کچھ لوگوں کے خیال میں امن عامہ کی بحالی اور دہشت گردی کا خاتمہ پہلے ضروری ہے۔ بعض لوگ اسے انڈہ اور مرغی والی بحث قرار دیں لیکن میرے لیے قیام امن ضروری ہے جس کے بعد ہی آپ بدعنوانی جیسے انتہائی اہم اقتصادی امور کی جانب توجہ دے سکتے ہیں۔

خیر ابھی تو انتخابات میں بہت وقت ہے اور شاید اسی وجہ سے کوئی سیاسی جماعت تیاری کی جلدی بھی نہیں دکھا رہی ہے۔ اگرچہ اس وقت ملک میں انتخابی کمیشن ایک ایسے عمل سے گزر رہا ہے جس کے آئندہ انتخابات پر دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ یہ عمل ہے ووٹروں کی فہرستوں کی تصدیق کا۔

ہر کوئی جانتا ہے کہ تحریک انصاف کا اصل اثاثہ نوجوان نسل ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن کیا تحریک انصاف نے اس کے فیس بک اور ٹوِٹر سے چِپکے جوانوں سے کہا ہے کہ وہ جائیں اور اپنے ووٹ کا اندراج ضرور کروائیں؟ شاید نہیں۔ عام انتخابات یقینا خالہ جی کا گھر نہیں۔ ہوم ورک کی ضرورت ہوتی ہے جس سے ہر سیاسی جماعت گھبراتی ہے۔ تحریک انصاف تو دیگر جماعتوں سے اپنے آپ کو یکسر مختلف پارٹی قرار دیتی ہے۔ تو ٹی وی پر بحث مباحثے کے ساتھ ساتھ اسے عملی اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔

اسی بارے میں