سندھ میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد 53 لاکھ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سرکاری عمارتیں متاثرین سے بھری ہوئی ہیں جبکہ بڑی تعداد میں اسکول زیر آب آچکے ہیں۔

پاکستان کے جنوبی صوبۂ سندھ میں حالیہ بارشوں سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور صوبائی حکومت کے مطابق یہ تعداد تریپن لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

صوبے کے کئی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور اس دوران مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو سو سولہ تک جا پہنچی ہے، جن میں پچپن خواتین اور اکتیس بچے بھی شامل ہیں۔

صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق میرپورخاص میں اڑتیس اور بدین میں گزشتہ ایک ماہ میں چھبیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ بدین کے شہروں، نندو، کھوسکی، شادی لارج، کڈھن اور سیرانی سے لوگوں کا انخلاء کیا جارہا ہے۔

بدین کے ضلعی اہلکار دادلو زہرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایل بی او ڈی سیم نالے کے قریب واقع ان علاقوں سے آبادی کا انخلاء جمعہ کے دن سے شروع کیا گیا ہے اور انتظامیہ مرحلہ وار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے بنائے گئے کیمپوں میں اس وقت پونے تین لاکھ لوگ موجود ہیں، جبکہ لاکھوں لوگ سڑکوں، اور بچاؤ بندوں پر کھلے آسمان کے نیچے موجود ہیں۔

اویئر نامی غیر سرکاری تنظیم کے اہلکار علی اکبر راہموں نے نئوں کوٹ سے بی بی سی کو بتایا کہ مسلسل بارش کی وجہ سے سڑکوں اور راستوں پر بیٹھے لوگوں کی زندگی میں مزید مشکلات کا پیدا کررہی ہے۔

انہوں نے بتایا سرکاری عمارتیں متاثرین سے بھری ہوئی ہیں، ان میں اب گنجائش نہیں رہی جبکہ بڑی تعداد میں اسکول زیر آب آچکے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو بارش میں شیلٹر دستیاب نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آبادیوں سے انخلاء کا عمل جاری ہے۔

ایک اور سماجی کارکن ستار زنگیجو کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے سیلاب سے بھی اس وقت صورتحال مشکل ہے، گزشتہ کوئی نہ کوئی راستہ محفوظ ہوتا تھا جس کے ذریعے متاثرین تک رسائی ہوتی تھی، مگر خاص طور پر بدین میں تمام ہی سڑکیں زیر آب آچکی ہیں جس کے وجہ سے ادارے پھنسے ہوئے لوگوں تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔

کالعدم جماعت الدعوۃ بھی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کے لیے امدادی کاموں میں سرگرم ہے، گولارچی سے تنظیم کے رہنماء یحیٰ مجاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والے ادارے یہاں نظر نہیں آرہے ہیں۔ ان کے بقول جس سطح کی تباہی ہے وہاں تمام اداروں کے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ بیس ہزار لوگوں کے کھانے کا بندوبست کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں کوئی ایسی جگہ نہیں مل رہی جہاں یہ بندوبست کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کھلے آسمان تلے یہ کام ممکن نہیں کیونکہ یہاں بارشیں رکنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔

اسی بارے میں