’تیرہ سو میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption گیارہ بجلی گھروں میں متحدہ عرب امارات کا تحفے میں پیش کردہ گیس پر چلنے والا بجلی گھر بھی شامل ہے

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے پانی اور بجلی سید نوید قمر نے کہا ہے کہ رواں مالی سال میں گیارہ بجلی گھر تیرہ سو میگا واٹ بجلی پیدا کرنا شروع کر دیں گے۔

یہ بات انہوں نے پیر کو قومی اسمبلی میں سوالات کے وقفے کے دوران بیگم نزہت صادق کے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتائی۔

وزیر کے مطابق ان گیارہ بجلی گھروں میں متحدہ عرب امارات کا تحفے میں پیش کردہ گیس پر چلنے والا بجلی گھر بھی شامل ہے جس سے تین سو بیس میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس سے چھ کرائے کے بجلی گھروں سے پونے آٹھ سو میگا واٹ سے زیادہ بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔

نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق پیر کو قومی اسمبلی کا بلایا گیا اجلاس شیڈول کے مطابق تین ہفتے جاری رہنا تھا لیکن سندھ میں بارشوں اور سیلاب کی تباہی کی وجہ سے اُسے غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔

سید نوید قمر نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ موجودہ حکومت کے دور میں دو لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ بجلی چوری کے مقدمات درج ہوئے ہیں جس میں ساڑھے چار ارب روپے سے زیادہ مالیت کی بجلی چوری کے الزامات ہیں۔

وزیر برائے صنعت و پیداوار پرویز الہیٰ نے بتایا ہے کہ موجودہ حکومت کے قیام کے بعد ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد صنعتیں قائم ہوئیں جبکہ پانچ سو سے زیادہ صنعتی یونٹ بند ہوگئے۔

ان کے بقول پنجاب میں پانچ سو اکہتر یونٹ قائم اور بیالس بند ہوئے، سندھ میں تین سو تینتیس کھولے گئے اور دو سو گیارہ بند ہوئے، خیبر پختونخوا میں چالیس قائم اور دو سو سینتیس بند ہوگئے جبکہ بلوچستان میں چھیالیس صنعتی یونٹ قائم اور سولہ بند ہوئے۔

قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات میں مذہبی امور کے وفاقی وزیر سید خورشید احمد شاہ نے بتایا کہ رواں سال حج کے دوران خدام الحجاج کے لیے فوج نے اپنے جوان فراہم کرنے سے معذرت کرلی ہے اور حکومت ان کے کوٹہ پر دیگر محکموں سے ملازمین کو بھیجے گی۔ ان کے بقول دو سو تیس خدام الحجاج بھیجنے ہیں جس میں سے ایک سو تیس فوجی ہوتے ہیں۔

انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ صوبہ سندھ کے علاوہ پاکستان میں رجسٹرڈ دینی مدارس کی تعداد اٹھارہ ہزار تین سو پچپن ہے۔ جس میں سب سے زیادہ یعنی بارہ ہزار نو سو تین مدارس پنجاب میں قائم ہیں۔ ان کے بقول صوبہ سندھ سے فی الوقت معلومات موصول نہیں ہوئی۔

خورشید شاہ کی قومی اسمبلی میں پیش کردہ تحریری معلومات کے مطابق پنجاب میں سب سے زیادہ مدارس سرائیکی پٹی میں قائم ہیں۔ ان کے بقول ضلعی اعتبار سے سب سے زیادہ مدرسے ملتان میں ہیں جن کی تعداد گیارہ سو چوالیس ہے جبکہ دوسرے نمبر پر لاہور ہے جہاں گیارہ سو دس مدارس ہیں۔

وزیر کے مطابق خیبر پختونخوا میں تین ہزار تین سو ترتالیس، بلوچستان میں انیس سو اڑسٹھ، گلگت میں تین اور اسلام آباد میں ایک سو اڑتیس مدارس ہیں۔

اسی بارے میں