بدین: تباہی کی بڑی وجہ ایل بی او ڈی نالا

Image caption لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین سیم نالہ صدر آصف علی زرداری کے آبائی ضلع نوابشاہ سے شروع ہوتا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع بدین میں بارشوں کے بعد آنے والی تباہی کی ایک بڑی وجہ لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین یعنی ایل بی او ڈی سیم نالے کو قرار دیا جارہا ہے۔

اربوں رپے کی مالیت سے تعمیر کیا گیا یہ نالہ زرعی زمینوں کی سیم اور تھور کم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا مگر مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال اس کے برعکس ہے۔

لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین سیم نالہ صدر آصف علی زرداری کے آبائی ضلع نوابشاہ سے شروع ہوتا ہے جو سانگھڑ اور میرپور خاص سے گزرتا ہوا بدین میں رن کچھ کے مقام پر سمندر میں جاگرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس سیم نالے کا مقصد بارش اور سیم کے پانی کی نکاسی تھی

اس سیم نالے کا مقصد بارش اور سیم کے پانی کی نکاسی تھی تاکہ زمین کی زرخیزی برقرار اور زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکے۔

شادی لارج کے رہائشی بلال رند کا کہنا ہے کہ ڈیزائن میں خرابی کے باعث سیم کا پانی سمندر میں گرنے کے بجائے الٹا سمندر کا پانی سیم نالے میں اوپر چڑھ آتا ہے۔

’جب تیز بارشیں ہوتی ہیں تو ہوا کا دباؤ بھی بڑھ جاتا ہے، جو پانی کو دھکیلتا ہے، جس سے پانی سمندر میں نہیں جاتا اور رک جاتا ہے، پیچھے سے مسلسل پانی کی آمد کی وجہ سے پانی گنجائش سے بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں شگاف پڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔‘

بلال رند کے مطابق ’ایل بی او ڈی سیم نالے میں پانی کی گنجائش ساڑھے چار ہزار کیوسک ہے مگر اس میں سے پندرہ ہزار کیوسک پانی گذارا جارہا اور کمزور بند اس کا دباؤ برداشت نہیں کرسکتے‘۔

سنہ انیس سو چوہتر میں ایل بی او ڈی کی تعمیر شروع ہوئی اور یہ منصوبہ اکتیس ارب روپے کی مالیت سے مکمل ہوا، جس کی مالی معاونت عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نےفراہم کی جبکہ منصوبے پر واٹر اینڈ پاور اتھارٹی یعنی واپڈ نے عمل درآمد کرایا۔

قومی اسمبلی کی موجودہ اسپیکر فہمیدہ مرزا بھی اس منصوبے کے خلاف احتجاج میں شریک رہی ہیں وہ منصوبے میں کرپشن کے الزام بھی عائد کرتی ہیں۔

’مقامی افراد کو اس منصوبہ بندی میں شامل ہی نہیں کیا گیا، عالمی بینک کے کسی کنسلٹنٹ نے یہ پروگرام بنا کر دے دیا، واپڈا اور دیگر اداروں کی لاپرواہی سے یہ پورا منصوبہ کرپشن کی نظر ہوگیا‘۔

فہمیدہ مرزا کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایل بی او ڈی کی ستم ظریفیوں سے متعلقہ حکام کو آگاہ کیا ہے اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ جیسے ہی صورتحال معمول پر آتی ہے، اس کی ری ڈیزائیننگ کی جائیگی۔

Image caption ڈیزائن میں خرابی کے باعث سیم کا پانی سمندر میں گرنے کے بجائے الٹا سمندر کا پانی سیم نالے میں چڑھ آتا ہے

اس منصوبے کے باعث جھیلوں میں پانی کی فراہمی رک گئی، جس سے ہزاروں ماہی گیر بیروزگار ہوئے ، سمندر کا پانی آگے بڑھنے سے کئی ہزار ایکڑ زمین کاشت کے قابل نہیں رہی، جس نے اس علاقے کے افراد کی بھوک اور افلاس میں اضافہ کیا۔

سنہ انیس سو ننانوے کے طوفان، دو ہزار تین اور رواں سال اگست کی بارشوں سے ایل بی او ڈی میں طغیانی آئی اور شگاف پڑے ، جس کے باعث ہر مرتبہ لوگوں کے گھر ڈوبے اور وہ بیروزگار اور بے گھر ہوئے۔

مقامی افراد نے اس منصوبے کے خلاف عالمی بینک کے ٹربیونل میں درخواست دائر کی اور آخر بینک نے اپنا ایک مشن بھیجا، جس نے مقامی افراد سے ملاقات کی۔ ان درخواست گزاروں میں زمیندار خادم ٹالپور بھی شامل تھے۔

’اس وقت عالمی بینک نے یہ بیان دیا تھا کہ واقعی ان سے غلطی ہوئی ہے اس کے ڈیزائن کا خیال نہیں رکھا گیا ، انہوں نے ایک منصوبہ بناکر دیا جس میں طویل اور قلیل مدت اقدامات تجویز کیے گئے تھے، جو عملدرآمد کے لیے حکومت کو دیے گئے مگر حکومت نے ان پر عمل نہیں کیا اور صورتحال جوں کی توں برقرار ہے۔‘

سیم نالے کے دونوں طرف کچی سڑک ہے جس پر کئی روز پانی کھڑا رہتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان سے تو یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ پکی سڑکیں بنائی جائیں گی مگر اس پر عمل نہیں ہوا اب جب بھی شگاف پڑتا ہے تو ان کے نکلنے کے راستے ہی بند ہوجاتے ہیں۔

مرزا پٹھان نامی شخص نے بتایا کے پہلے اس سیم نالے کی دیکھ بحال ہوتی تھی، پانی کے ساتھ آنے والی مٹی نکالی جاتی تھی مگر آہستہ آہستہ یہ سلسلہ بند ہوگیا۔

بدین کے باسی سندھی زبان کے نامور شاعر حلیم باغی کے اس شعر کا حقیقی روپ نظر آتے ہیں، جس میں شاعر کہتا ہے کہ

ہماری طرح بھی کوئی جئے اس جہاں میں

ہمیشہ نشانے پر اور ہمیشہ امتحاں میں

بدین کو کبھی سمندری طوفان گھیرے میں لے لیتا ہے تو کبھی زلزلہ ہلا کر رکھ دیتا ہے، ان دونوں سے بچ جائے تو بارشیں انہیں آد بوچتی ہیں جن کی ذرا شدت ہزاروں لوگوں کو بے گھر کردیتی ہے۔

اسی بارے میں