چترال اور دیر میں فوج کی تعیناتی

فائل فوٹو
Image caption پیر سے کئی فوجی قافلے چترال پہنچ رہے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع چترال میں پہلی مرتبہ فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ ضلع دیر آپر اور لوئر دیر کے پاک افغان سرحدی علاقوں میں بھی شدت پسندوں کے حملے روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا جارہا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائر یکٹر جنرل میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فوج کی تعیناتی کی تصدیق کی ہے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ پاک افغان سرحد کے کچھ علاقوں میں فوجی دستے تعینات کردیےگئے ہیں تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائي۔

چترال کے ایک اعلٰی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا ہے کہ پیر سے فوجی اہلکار قافلوں کی شکل میں چترال آرہے ہیں اور اب تک سکیورٹی فورسز کی ایک بڑی تعداد وہاں پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان دستوں کو پاک افغان سرحدی علاقے آرندو میں تعینات کیا جارہا ہے تاکہ افغان سرزمین سے شدت پسندوں کے حملوں کو روکا جاسکے۔

چترال کے ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ ان کے علاقے میں پہلی مرتبہ باقاعدہ طورپر فوجی دستوں کو تعینات کیا جارہا ہے جس سے لوگوں میں ایک قسم کا خوف و ہراس بھی پایا جاتا ہے۔

Image caption افغان سرحد پر شدت پسندو سے بچنےکے لیے فوج تعینات کی گئی ہے

انہوں نے کہا کہ مقامی باشندے یہ خیال کررہے ہیں کہ چترال ایک پرامن ضلع رہا ہے اور ایسا نہ ہو فوج یہاں پر آپریشن کا آغاز کردے جس سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے۔

ادھر ضلع دیر اپر اور دیر لوئر کے پاک افغان سرحدی علاقوں میں بھی فوجی دستوں کو تعنیات کیا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سرحدی مقامات پر قائم تمام سرکاری سکولوں کو خالی کرا لیا گیا ہے جبکہ اس سلسلے میں مسجدوں سے اعلانات بھی کیےگئے ہیں۔

خیال رہے کہ پچھلے چند ماہ سے دیر اپر، دیرلوئر اور چترال کے اضلاع میں سرحد پار سے شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

تقریبا تین ہفتے قبل چترال کے علاقے آرندو میں افغانستان سے آنے والے سینکڑوں مسلح شدت پسندوں نے چترال سکواٹس اور پولیس کے سات چوکیوں پر شدید حملے کئے تھے جس میں بتیس سے زآئد اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

اس سے قبل دیر آپر اور دیر لوئر کے اضلاع میں بھی سرحد پار سے ہونے والے حملوں میں درجنوں سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری وقتاً فوقتاً سوات اور مالاکنڈ کے طالبان قبول کرتے رہے ہیں جبکہ چترال حملے کی ذمہ داری سوات طالبان کے ایک اہم کمانڈر سراج الدین نے قبول کرلی تھی۔

پاکستان فوج اور دفتر خارجہ نے ان حملوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا جبکہ ایک دو مرتبہ افغان سفیر کو طلب کرکے ان سے سخت احتجاج بھی کیا گیا تھا۔ پاکستان نے افغانستان میں تعینات ایساف اور افغان نیشنل آرمی کے فورسز سے بھی مطالبہ کیا تھا کہ افغانستان سے پاکستان پر ہونے والے حملوں کو روکنے کےلیے اقدامات کیے جائیں۔

اسی بارے میں