پاک ایران تعاون بڑھانے پر اتفاق

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

پاکستان اور ایران نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے پہلے سرکاری دورۂ ایران کے دوران سامنے آیا ہے۔

پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں سرکاری رابطوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جون میں دونوں ممالک کے رہنماؤں کے علاوہ افغانستان کے صدر نے انسداد دہشت گردی سے متعلق کانفرنس میں مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا عزم دہرایا تھا۔

جولائی میں صدر آصف علی زرداری نے تہران جبکہ ایرانی وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے گزشتہ دنوں اسلام آباد کے دورے کیے۔ ایرانی وزیر داخلہ، خیال ہے کہ جلد اسلام آباد کا دورہ کریں گے تاکہ بقول پاکستان ایران کی بلوچستان سیستان سرحد پر تشویش کو دورہ کیا جاسکے۔

ایران پہنچنے پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا ایرانی حکام نے گرمجوشی سے استقبال کیا۔ انہیں ایرانی سکیورٹی دستوں نے سلامی بھی دی۔

وزیر اعظم گیلانی نے نائب ایرانی صدر محمد رضا رحیمی سے بھی ملاقات کی۔

ایرانی صدر احمدی نژاد کے ساتھ بات چیت میں وزیر اعظم گیلانی نے اتفاق کیا کہ دونوں ممالک قدرتی گیس اور ایک ہزار میگا واٹ بجلی کی ترسیل کے منصوبوں پر کام میں تیزی لائیں گے تاکہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق ایران نے اپنی ضرروریات کو پورا کرنے کے لیے گندم، سبزیاں اور فروٹ جیسی پاکستانی مصنوعات کو ترجیع دینے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے حجم کو دس ارب ڈالر تک لیجانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ اس وقت دونوں ممالک میں یہ تجارت محض ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر تک محدود ہے۔

اس کے علاوہ ایران نے پاکستان کو بندر عباس میں قونصل خانہ کھولنے کی تجویز پر غور کی بھی یقین دہانی کروائی ہے۔

اسی بارے میں