ڈینگی: مریضوں کی تعداد پانچ ہزار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ڈینگی بخار میں مزید چار سو سے زائد افراد کے مبتلا ہونے سے اس بیماری سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد پانچ ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔

ڈینگی وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے سری لنکن ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھی پاکستان پہنچ گئی ہے۔

لاہور کی ڈی سی او احد چیمہ نے بتایا کہ ڈینگی وائرس کے خاتمے کے لیے فضائی سپرے کرنے کی تجویر کو شہری آبادی کے لیے ناقابل عمل ہونے کی بناء پر مسترد کردیا گیاہے۔

محکمہ صحت پنجاب کے مطابق صوبے میں ڈینگی وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کی کل تعداد چار ہزار نو سو نواسی ہوگئی ہے۔ ان میں سے چار ہزار ایک سو اٹھارہ مریضوں کا تعلق صوبائی دارالحکومت لاہور سے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق نے بتایا کہ صوبائی حکام کے بقول چوبیس گھنٹوں میں پنجاب میں چار سو بارہ افراد میں ڈینگی بخار میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی اور صرف لاہور شہر میں چار سو تریپن افراد میں اس مرض کی تشخیص کی گئی ہے۔

سیکرٹری صحت پنجاب جہانزیب خان نے بتایا کہ سری لنکا سے آنے والی بارہ رکنی ٹیم میں ایسے ماہرین شامل ہیں جو ڈینگی وائرس کے مریضوں کے علاج اور اس وائرس کے روک تھام کے بارے میں مکمل معلومات رکھتے ہیں۔

ان کے بقول یہ ٹیم دس روز تک قیام کے دوران لاہور کے مختلف ہسپتالوں کا دورے کرے گی۔

لاہور میں ہی ڈینگی وائرس کا شکار ہونے والے غیر ملکیوں کی تعداد چھ ہوگئی ہے اور نجی کمپنی میں کام کرنے والے دو چینی باشندوں کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نجی ہسپتالوں کو ڈینگی سے متاثر مریضوں کو مفت علاج کرنے کی اپیل کی اور اپیل پر عمل درآمد نہ کرنے والے نجی ہسپتالوں کی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹرجسٹس اعجاز احمد چودھری نے ڈینگی وائرس کے بارے میں دائر مقامی وکیل کی درخواست پر حکومت پنجاب کی طرف سے جواب داخل نہ کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور صوبائی سیکرٹری صحت اور ڈی سی او لاہور کو سولہ ستمبر کو طلب کرلیا۔

ادھر ڈینگی وائرس سے بچاؤ کے لیے ادویات اور مچھر مار سپرے کی فروخت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔

لاہور کے ایک بڑے ڈیپارمنٹ سٹور کے مینجر عبدالرحمان نے بتایا کہ پہلے ایک دن میں مچھر سے بچاؤ کے لیے لوشن یا سپرے کے پچاس کے قریب بوتلیں فروخت ہوتی تھیں لیکن اب ایک دن میں تین سے چار سو تک بوتلیں بک جاتی ہیں۔

جہاں ڈینگی وائرس کی وجہ سے اس کے بچاؤ کی ادویات اور سپرے کی طلب سے ان کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں اور مارکیٹ میں کئی میڈیکل سٹورز پر یہ ادویات دستیاب نہیں ہیں۔

لاہور میں ڈینگی وائرس کے پھیلنے سے سکولوں اور کالجوں کے بعد شہر کی جعامعات کو بھی بند کردیا گیا ہے۔

اسی بارے میں