آخری وقت اشاعت:  بدھ 14 ستمبر 2011 ,‭ 14:02 GMT 19:02 PST

سندھ: بیماریاں پھیلنے کا خطرہ

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ صوبہ سندھ میں حالیہ بارشوں سے انتیس ہزار سے زائد دیہات متاثر ہوئے ہیں اور دس لاکھ سے زائد متاثرین میں بیماریاں پھیلنے کا اندیشہ ہے۔

این ڈی ایم اے کے اعدادوشمار کے مطابق اب تک بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ساڑھے ترپن لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اس دوران ہلاک ہونے والے دو سو چھبیس افراد میں انسٹھ خواتین اور چونتیس بچے بھی شامل ہیں۔

کلِک سندھ میں بارشوں سے تباہی: تصاویر

قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے قومی ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری نے فوری طور پر امداد فراہم نہیں کی تو لاکھوں متاثرینِ سیلاب بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔

صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ضلع بدین ہے

این ڈی ایم اے کے ایک ترجمان ارشاد بھٹی نے بی بی سی اردو کے اعجاز مہر کو بتایا کہ اگر امداد فراہم نہیں کی گئی تو ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد اسہال جبکہ ساڑھے چار سے دس لاکھ لوگ ملیریا، آشوب چشم اور جلدی بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرینِ سیلاب میں پانچ لاکھ سے زیادہ ایسے بچے ہیں جن کی عمر پانچ سال سے کم ہے اور انہیں بیماریاں لاحق ہونے کا زیادہ خطرہ ہے۔ ان کے بقول تاحال ایک لاکھ تیس ہزار حاملہ خواتین کا بھی اندارج ہو چکا ہے جس میں سے اٹھارہ ہزار پیچیدہ کیسز ہیں۔

ارشاد بھٹی نے بتایا کہ تاحال پچاس ہزار کے قریب خیمے متاثرین میں تقسیم کیے جاچکے ہیں جبکہ مزید پچاس ہزار سے زیادہ خیمے متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کیے جاچکے ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا امدادی اقدمات ناکافی نہیں انہوں نے کہا کہ ’ہم سپرمین نہیں ہیں کہ ہر جگہ فوری طور پر پہنچیں اور امدادی سامان تقسیم کریں‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ متاثرہ علاقے میں پچپن ہزار سے زیادہ مچھر دانیاں تقسیم کی جاچکی ہیں اور ڈھائی ارب روپے مالیت کے راشن بیگ بھی متاثرین کو دیے گئے ہیں۔

اس سوال پر کہ بعض غیر سرکاری تنظیمیں’این ڈی ایم اے‘ پر صورتحال کی خرابی کا صحیح اندازہ نہ لگانے اور عالمی برادری کو تاخیر سے امداد کے لیے طلب کرنے کا الزام لگاتی ہیں، ترجمان نے کہا کہ ’ہماری کوشش تھی کہ اپنے وسائل سے صورتحال سے نمٹیں۔ لیکن بارش ہم سے پوچھ کر نہیں آئی اس لیے جب صورتحال قابو سے باہر ہوئی تو عالمی برادری سے اپیل کرنی پڑی‘۔

متاثرینِ سیلاب میں پانچ لاکھ سے زیادہ ایسے بچے ہیں جن کی عمر پانچ سال سے کم ہے

صوبہ سندھ میں مون سون کی غیر معمولی بارشوں کا سلسلہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب بھی جاری رہا اور محکمۂ موسمیات کے مطابق صوبے کے بیشتر عِلاقوں اور بلوچستان کے مشرقی حصوں میں منگل اور بدھ کی رات موسلا دھار بارش ہوئی اور آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بلوچستان اور سندھ کے بعض مقامات پر مزید بارش کا امکان ہے۔

بدھ کو صوبہ سندھ میں کراچی سمیت بارش سے متاثرہ اضلاع کے تعلیمی اداروں میں چھٹی دے دی گئی۔

دوسری جانب صدر زرداری نے عوام سے صوبہ سندھ میں مزید بارشوں کے رکنے اور صوبہ پنجاب میں ڈینگی وائرس سے متاثرہ افراد کی صحت یابی کے لیے قوم سے دعا کی اپیل کی ہے۔

این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے سے تیرہ ستمبر تک صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ضلع بدین ہے۔

بدین میں تقریباً چھ ہزار سے دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ ان متاثرہ علاقوں میں بارش کے باعث متاثر ہونے والوں کی تعداد دس لاکھ سے زائد ہے۔ رپورٹ کے مطابق بدین میں دو لاکھ سے زیادہ مکانات تباہ ہوئے ہیں جبکہ تقریباً تین لاکھ چالیس ہزار ایکڑ اراضی کو نقصان پہنچا ہے۔

این ڈی ایم کی روزانہ جاری کی جانے والی رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں میں متاثرین کی کُل تعداد تریپن لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ امدادی کیمپوں میں رہنے والوں کی کُل تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہے جن میں اٹھہتر ہزار سے زیادہ عورتیں اور ایک لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔