سندھ میں سیلاب، انتیس ہزار دیہات متاثر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کی قدرتی آفات سے نمٹنے کی تنظیم نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق حالیہ بارشوں کے باعث صوبہ سندھ میں انتیس ہزار سے زائد دیہات متاثر ہوئے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد 226 ہو گئی ہے۔

دوسری جانب صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بارش کے باعث پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے سے تیرہ ستمبر تک صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ضلع بدین ہے۔

سندھ میں بارشوں سے تباہی: تصاویر

بدین میں تقریباً چھ ہزار سے دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ ان متاثرہ علاقوں میں بارش کے باعث متاثر ہونے والوں کی تعداد دس لاکھ سے زائد ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدین میں دو لاکھ سے زیادہ مکانات مکانات تباہ ہوئے ہیں جبکہ تقریباً تین لاکھ چالیس ہزار ایکڑ اراضی کو نقصان پہنچا ہے۔

این ڈی ایم کی روزانہ کی جاری کی جانے والی رپورٹ کے مطابق امدادی کیمپوں میں رہنے والوں کی کُل تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہے جن میں 78000 سے زیادہ عورتیں اور ایک لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ این ڈی ایم اے پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ حالیہ بارشوں میں متاثرین کی کُل تعداد تریپن لاکھ سے زیادہ ہے۔ اور ہلاکتوں کی تعداد 226 ہے جن میں 59 خواتین اور 34 بچے بھی شامل ہیں۔

صوبائی حکومت کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ترپّن لاکھ پچاس ہزار افرد سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔

سندھ کے ریلیف کمشنر آفس کے مطابق متاثرین کی اکثریت کو امدادی سامان پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں تاہم خراب موسم اس سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

بارش کے باعث کوئٹہ شہر کی اکثر سڑکوں پر پانی جمع ہو گیا ہے جبکہ کئی کچے مکانات زمین بوس ہوگئے ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق ایک گھنٹے کے بارش کے بعد شہر کی سڑکوں پر پانی جمع ہو گیا اور مختلف واقعات میں چار بچوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

کوئٹہ شہر میں منگل کو ہونے والی مون سون کی بارشوں میں پشتون آباد میں تین بچے برساتی نالے میں بہہ گئے جن کی لاشیں نکال لی گئیں۔تاہم لوڑ کاریز میں بہہ جانے والے دوبچے ابھی تک لاپتہ ہیں۔

سترہ سالہ طالب علم بہار علی جناح روڈ پر پشین بس اسٹاپ کے قریب کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گئے۔

کمشنر کوئٹہ ڈویژن نسیم احمد لہڑی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ کوئٹہ کے نشیبی علاقے زیر آب آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سریاب کے مختلف علاقوں میں جھگیوں میں بسنے والے ایک ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیاگیاہے۔ اور میونسپل کارپوریشن کے عملے پر مشتمل تیرہ ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں۔

اسی بارے میں