’چند برتن، دو بیٹے اور دو مرغے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان فوج کی ریسکیو ٹیم کچھ لوگوں کے پانی میں پھنسے ہونے کی اطلاع پر سیلابی پانی کو چیرتی ہوئی آگے جا رہی تھی کہ راستے میں دور سڑک کے ایک خشک حصے پر ایک شخص ایک عورت اور دو بچے نظر آتے ہیں۔

کشتی قریب آتے ہی وہ منہ سے تو کچھ نہیں کہتے مگر التجا کی نظروں سے ریسکیو ٹیم کو دیکھتے ہیں اور فوج کے جوان انہیں کشتی میں سوار کر لیتے ہیں۔

اس خاندان کے ساتھ چند برتن اور دو مرغے بھی ہیں جو کپڑے کے ساتھ باندھ دیے گئے تاکہ بھاگ نہ سکیں۔

فوج کے ایک اہلکار نے اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر بتایا کہ اندرون سندھ کے لوگ کافی پسے اور دبے ہوئے ہیں اس لیے فوج کی مدد سے گھبراتے اور ڈرتے ہیں جبکہ پنجاب میں لوگ فوج کو روک کر ان کی مدد حاصل کرتے ہیں، صورتحال کے حساب سے تو ان کی بات درست ثابت ہو رہی تھی مگر عام حالات میں اس بات میں کتنی سچائی اور گہرائی ہے یہ دوسری بات ہے۔

عورت جس نے اپنا نام مسمات بھاگل بتایا مسلسل لمبے سانس لے رہی تھیں، پوچھنے پر بتایا کہ وہ دمہ کی پرانی مریض ہیں اور ان کے شوہر ٹی بی میں مبتلا ہیں۔

اس سوال پر کہ چاروں طرف پانی کا گھیرا تنگ ہونے کے بعد ہی انہوں نے نکلنے کا فیصلہ کیوں کیا، مسمات بھاگل کا کہنا تھا کہ’ ان کا گاؤں پچاس گھرانوں پر مشتمل ہے چار روز قبل سارے لوگ وہاں موجود تھے پانی میں اضافے کے ساتھ ہی راتوں رات سارے وہاں سے نکل گئے اور وہ وہاں موجود رہے۔‘

’جو صحت مند لوگ تھے وہ چلے گئے، ہم بیمار لوگ کہاں جاتے کوئی نکالنے والا بھی نہیں تھا اس لیے وہاں پڑے رہے۔‘

مسمات بھاگل کے شوہر احمد خان چانڈیو کھانستے تو ان کے پورے جسم پر لرزہ طاری ہوجاتا۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہیں جانوں کا خطرہ محسوس ہونے لگا تو وہ گھروں سے نکلے، راستے میں ایک نوجوان نے انہیں لکڑے( مقامی طور پر تیار کردہ کشتی‘ کی مدد سے اس خشک جگہ پر پہنچایا ہے اور یہاں انہیں اندازہ تھا کہ مدد مل جائے گی۔

احمد خان اور مسمات بھاگل کا گاؤں پنگریو سے کوئی دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہوگا جو ایل بی او ڈیم سیم نالے کو شگاف پڑنے کے باعث پانی میں غرق ہوگیا ہے، اب دور سے صرف گھروں کی چھتیں دیکھی جا سکتی ہیں، حکومت نے ان علاقوں کو حساس قرار دیکر لوگوں کو نکلنے کا مشورہ دیا تھا۔

تعلیم سے محروم دونوں میاں بیوی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گذارتے ہیں۔ بیماری کے باعث کوئی کام کرنے سے قاصر ہیں اور ان کے دونوں بیٹے چرواہے کے طور پر کام کرتے ہیں جس سے ان کا گذر بسر ہوتا ہے، مسمات بھاگل نے بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے ان کے پاس کوئی بتانے نہیں آیا تھا کہ پانی آ رہا ہے یہاں سے نکل جاؤ۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا جو تھوڑا بہت اثاثہ تھا وہ بھی سیلابی پانی کی نذر ہوگیا، اب صرف چند برتن، دو بیٹے اور دو مرغے ان کا کل اثاثہ ہیں۔

سیلاب میں جب صرف زندگی پیاری ہو تو ایسے میں مرغوں کو بھی بچوں کی طرح سنبھال کر وہ کیوں لائے؟ احمد خان نے مجھے حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ بھی سانس لیتے ہیں اور انہیں پیارے ہیں وہ انہیں کس طرح چھوڑ آتے۔

مسمات بھاگل اور احمد خان کو پنگریو کے داخلی راستے پر کشتی سے اتار دیا گیا اور وہ دنوں فوجی ٹرک جسے فوجی ڈھائی ٹن کہہ کر مخاطب ہو رہے تھے میں سوار کر دیا گیا، شہر میں دو سے تن فٹ پانی سے گذر کر انہیں شہر کے دوسرے طرف اتار دیا گیا، جہاں وہ ایک دوسرے ٹرک میں سوار ہوگئے جو بدین کی طرف جا رہا تھا۔

پوچھنے پر احمد خان نے بتایا کہ اب ان کی منزل ٹنڈو باگو کیمپ ہے، اب وہاں رہیں گے۔ ہم بھی ان کی پیچھے روانہ ہوگئے۔ احمد خان کو کسی نے بتایا کہ سرکاری کیمپوں میں اب جگہ نہیں ہے، وہ شہر سے قریب سڑک پر قائم ایک غیر سرکاری تنظیم الخدمت کے کیمپ پر اتر گئے۔

دو مرغوں، بیٹوں اور بیوی کے ساتھ وہ کیمپ کے پچھلی طرف واقع ایک خیمے کے پاس آ کر رکے، جہاں ایک بزرگ شخص ان سے گلے آ کر ملا۔ احمد خان نے بتایا کہ یہ ان کا بڑا بھائی اور ان کے خاندان کے دوسرے لوگ ہیں۔

اس خاندان کو تیز مرچ کے ساتھ پکے ہوئے چاول پیش کیے گئے جو کیمپ میں تقسیم کیے گئے تھے، پورے خاندان کے ساتھ مرغوں نے بھی یہ چاول کھائے۔ دمے اور کھانسی نے اثر دکھایا اور یہ گھی والے چاول گلے سے اترتے ہی بھاگل کی سانسیں تیز ہوگئیں اور احمد خان کی کھانسی۔

احمد خان کو بتایا گیا کہ اس کیمپ میں بھی جگہ نہیں ہے مگر انہوں نے یہاں ہی رہنے کا فیصلہ کیا اور یہاں اگر زندگی پوری بھی ہو جاتی ہے کم سے کم اپنوں کے درمیان تو ہوں گا۔

اسی بارے میں