ڈینگی: مریضوں اور ہلاکتوں میں اضافہ

لاہور تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لاہور ڈینگی وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

پاکستان کے صوبے پنجاب میں ڈینگی وائرس کے پھیلنے سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں متواتر اضافہ ہورہا ہے اور اس کے ساتھی ہی اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد میں بھی بڑھی ہے۔

صوبائی دارحکومت لاہور ڈینگی وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

ادھر ڈینگی وائرس کی وباء سے نمٹنے کے لیے بارہ رکنی سری لنکن ماہرین کی ٹیم نے اپنا کام شروع کردیا ہے۔

سری لنکا سے آنے والی ٹیم نے صوبائی دارالحکومت لاہور کے ہسپتالوں کا دورہ کیا اور وہاں مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے کیے گئے انتظامات کا جائزہ لیا۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ اس ٹیم میں ایسے ماہرین شامل ہیں جو ڈینگی وائرس کے مریضوں کے علاج اور اس وائرس کے روک تھام کے بارے میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

سری لنکن ماہرین نے وزیراعلٰی پنجاب شہبازشریف کی زیر صدارت ایک اجلاس میں شرکت بھی کی اور اجلاس کے شرکاء کو اپنے تجربات کے بارے میں بتایا۔

سری لنکن ٹیم کے بارے سیکرٹری صحت پنجاب جہانزیب خان نے بتایاکہ صوبائی حکومت کی طرف سے ڈینگی وائرس کے خلاف اپنائی جانے والی حکمت عملی کے بارے میں ٹیم کو بتایا جائے گا تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کہاں کہاں کمزور یا خامی رہ گئی تھی۔

صوبائی سیکرٹری نے بتایا کہ یہ ٹیم پندرہ روز کے قیام کے دوران لاہور کے بعد پنجاب کے دیگر شہروں کا دورہ بھی کرے گی۔

رکن پنجاب اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر سعید الہیْ نے ڈینگی وائرس کے تدارک کے لیے سری لنکن ٹیم کو پاکستان بلانے کی وجہ یہ بتائی کہ سری لنکا میں تیس سال سے یہ بیماری موجود ہے اور دو ہزار نو میں سری لنکن میں ڈینگی وائرس کا شدید حملہ ہوا لیکن وہاں کی حکومت کی حکمت عملی اور اقدامات کے اب سری لنکن حکومت نے اس پر قابو پالیا ہے۔

ادھر محمکہ صحت پنجاب کے مطابق پنجاب میں ڈینگی بخار میں مبتلا ہونے والے مریضوں کی تعداد ساڑھے پانچ ہزار سے تجاوز کرگئی ہے اور چوبیس گھنٹوں میں صوبے بھر میں ڈینگی وائرس سے متاثر ہونے والے پانچ سو اکیس نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور ان میں پانچ سو ایک کا تعلق لاہور سے ہے۔

صوبائی محکمہ صحت کے بقول ڈینگی وائرس والے مچھر کے کاٹنے سے اب نو مریضوں کی موت ہوئی ہے تاہم محکمہ صحت کے ایک سنیئر ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مرنے والوں کی تعداد بیس کے قریب ہے۔

ڈینگی وائرس والے مچھر کے کاٹنے کے خطرے کی وجہ سے اب لوگوں شام کو مارکیٹوں اور پارکوں کارخ نہیں کررہے۔

صوبائی حکام کے مطابق ڈینگی وائرس کے بارے میں لوگوں کو معلومات فراہم کرنے کے لیے ہیلپ لائن کا تجربہ بہت کامیاب رہا ہے اور ایک دن اوسط تین ہزار سے زیادہ ہیلپ لائن پر رابطہ کررہے ہیں۔

تاہم سیکرٹری صحت جہانزیب خان کا کہنا ہے ڈینگی وائرس کے خلاف آگہی مہم کے سلسلے میں جتنا بھی کام کیا جائے گا وہ کم ہے اور بقول ان کے مہم کے حوالے سے ابھی بہت کام کیا جانا باقی ہے۔

دوسری طرف پنجاب اسمبلی میں قائد حزب مخالف راجہ ریاض نے تجویز دی ہے کہ صوبائی اسمبلی کا اجلاس ڈینگی وائرس کی وجہ ملتوی کردیا جائے تاکہ ارکان اسمبلی ایوان میں بیٹھنے کے بجائے اپنے حلقوں میں ڈینگی وائرس کی روک تھام کے اقدامات پر توجہ دیں سکیں۔

اسی بارے میں