’ بیان امریکی تعاون سے مطابقت نہیں رکھتا‘

دفترِ خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ
Image caption تہمینہ جنجوعہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران لیون پنیٹا کے بیان پر محتاط ردِعمل ظاہر کیا

پاکستان نے امریکی وزیردفاع لیون پنیٹا کے بیان پر اپنا ردِعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا بیان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تعاون سے مطابقت نہیں رکھتا۔

لیون پنیٹا نے الزام عائد کیا تھا کہ گزشتہ روز کابل میں اتحادی افواج کے دفاتر اور امریکی سفارتخانے پر ہونے والے حملے میں پاکستانی سرزمین سے سرگرم حقانی نیٹ ورک کے جنگجو ملوث تھے۔

انہوں نے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ’وقتاً فوقتاً ہم نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کی جانب سے کیے جانے والوں حملوں پر کارروائی کرے لیکن اس سلسلے میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

دفترِ خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران لیون پنیٹا کے بیان پر اپنا محتاط ردِعمل دیتے ہوئے کہا ’ہم نے اخبارات میں لیون پنیٹا کا بیان دیکھا ہے اور ان کا یہ بیان دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تعاون سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔

نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں جہاں بھی دہشت گردی کی کوئی کارروائی ہوئی ہے، پاکستان نے اس کی سخت الفاظ مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور شدت پسندی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کےلیے مزید تعاون درکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان شروع سے ہی دہشت گردی کے خلاف چلنے والی بین الاقوامی جنگ میں تعاون کرتا رہا ہے اور اس تعاون کی بنیاد ملک کی خودمختاری کی عزت اور مشترکہ کارروائی پر ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ دہشت گردی اور شدت پسندی جیسے مسائل کو مصالحتی انداز میں حل کرنے کی ضرورت ہے اور تشدد کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان امریکہ کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ پاکستان گزشتہ کئی سالوں سے اس مسئلے کا سامنا کر رہا ہے۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان نے افغانستان میں شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں پر اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے اور وہاں سے ملک کے قبائلی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کیے جاتے ہیں۔

اس سے قبل افغانستان میں امریکہ کے سفیر کروکر نے بھی اس حملے کا الزام حقانی نیٹ ورک پر لگایا تھا۔

واضح رہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی سفارتخانے، نیٹو ہیڈکوارٹر اور افغان پولیس کے دفاتر پر حملہ کیا گیا تھا۔

انیس گھنٹے تک جاری رہنے والی اس کارروائی میں گیارہ شہری، چار پولیس اہلکار اور دس حملہ آور ہلاک ہوئے تھے۔

نیٹو اور امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ان کا کوئی اہلکار اس کارروائی میں ہلاک نہیں ہوا تھا۔

اسی بارے میں