کراچی بدامنی: کارروائی مکمل، فیصلہ محفوظ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی میں بد امنی کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت کرنے والی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے کارروائی مکمل کر لی ہے جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

جمعرات کو سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ فتح ملک کو ہدایت کی کہ کراچی میں پیش آنے والے واقعات کی ایف آئی آر، چالان اور تفتیش روزانہ کی بنیاد پر سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس انور ظہیر جمالی کے روبرو پیش کی جائے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق چیف جسٹس نے سندھ کے چیف سیکرٹری کو بھی ہدایت کی کہ شہر میں آپریشن کرنے والی سکیورٹی فورسز، تفتیشی عملے اور استغاثہ کو جس قسم کی بھی مدد اور سہولیات درکار ہیں وہ انہیں فراہم کی جائیں۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل آئی جی سعود مرزا سے کہا کہ وہ تینوں ڈی آئی جیز سے رپورٹ طلب کریں کہ شہر میں جرائم کی روک تھام کس طرح ہو سکتی ہے اور یہ رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔

اس سے پہلے وفاقی حکومت کے وکیل بابر اعوان نے از خود نوٹس کیس میں اپنے دلائل مکمل کیے اور کراچی کی موجودہ صورت حال کو مقامی اور بین الاقومی سازش قرار دیا۔

بابر اعوان کا کہنا تھا ’ہم مذاکرات، ترقی اور برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ اس حوالے سے تمام فریقین سے مذاکرتات جاری ہیں اور حکومت ان سے بھی بات کر رہی ہے جو بیرونِ ملک ہیں۔‘

اس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر سے مذاکرات نہیں کیے جاتے۔

انھوں نے کہا ’آپ جو سیاسی مذاکرات کر رہے ہیں اس سے ان لوگوں کو کیا فرق پڑے گا جن کے رشتہ دار مارے گئے؟‘

انھوں نے بابر اعوان سے مخاطب ہو کر کہا ’آپ کے پاس تمام مواد، جوائنٹ انویسٹیگیشن رپورٹس، سپیشل برانچ کی رپورٹ اور ویڈیوز موجود ہیں، آپ نے اب تک کیا کارروائی کی ہے؟‘

چیف جسٹس کا کہنا تھا ’ریاست کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرے۔ اگر ایک کتا بھی مر جاتا ہے تو ریاست ہی اس کی ذمہ دار ہوتی ہے۔‘

بابر اعوان نے جواب میں کہا کہ حکومت بنیادی حقوق پر کام کر رہی ہے اور اس نے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی۔

اس پر جسٹس انور ظہیر جمال نے کہا ’ کیا سیاسی دشمنیاں ہیں؟‘ اس پر بابر اعوان نے کہا کہ جب آئین کی خلاف ورزی کر کے فوجی حکومتیں بنائی گئیں تب سیاسی دشمنیاں بڑھیں۔

اس کے جواب میں جسٹس سرمد عثمانی نے کہا ’سیاسی اور ذاتی دشمنی ہو سکتی ہے۔ کراچی میں معاشی دشمنی ہے۔‘

اس موقع پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ’کیا حکومت اس سے بنائی جاتی ہے کہ لوگوں کو مار کر ان کی لاشیں پھینکنے کا سلسلہ شروع کیا جائے؟‘

چیف جسٹس نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ سب کچھ موجو ہونے کے باوجود یہ کہا جاتا ہے کہ ہم ذمہ دار نہیں ہیں۔

چیف جسٹس نے بابر اعوان کو کہا ’اگر آپ ضمانت لیتے ہیں کہ کل کراچی میں کسی کو مارا نہیں جائے گا تو ہم کارروائی نہیں کریں گے۔‘

اس پر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ فیصلے کے بعد ضمانت نہیں دی جا سکتی اور حکومت کوشش کر رہی ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی ’مِنی پاکستان‘ ہے اور اس شہر کو اگر آج کنٹرول نہیں کریں گے تو کبھی کنٹرول نہیں ہو گا۔

اسی بارے میں