سندھ: تقریباً چوبیس لاکھ متاثرین بیماریوں میں مبتلا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ صوبہ سندھ میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد میں سے تئیس لاکھ نوے ہزار مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

حکام کے مطابق سیلاب متاثرین کی تعداد ساڑھے ترپن لاکھ سے بڑھ کر اٹھاون لاکھ چونسٹھ ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ترجمان ارشاد بھٹی نے بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر سے بات کرتے ہوئے عالمی اداروں سے فوری امداد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہزاروں افراد کی جانیں بچانے کے لیے آگے آئیں اور اپنا کردار ادا کریں۔

سندھ میں بارشیں، سرکار مخمصے میں

سندھ میں سیلاب، انتیس ہزار دیہات متاثر

دریں اثناء بین الاقوامی امدادی ادارے آکسفیم کا کہنا ہے کہ سندھ میں سیلاب سے متاثرہ پچاس لاکھ سے زائد افراد کو کھانے پینے اور دیگر اشیا کی شدید ضرورت ہے۔

ترجمان کے بقول گزشتہ روز بدھ کو مزید چون افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور تاحال مرنے والوں کی تعداد تین سو کے قریب ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق سات ہزار پانچ سو بیس افراد کو سانپوں نے کاٹ لیا ہے اور انہیں علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چھ لاکھ سولہ ہزار پانچ سو سے زائد افراد آشوب چشم، پانچ لاکھ ساٹھ ہزار کے قریب جِلدی بیماریوں اور ساڑھے سات لاکھ ہیضے کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ جس میں سے ان کے مطابق چار لاکھ تیرہ ہزار سے زیادہ مریض ایسے ہیں جنہیں خونی ہیضہ ہے۔

ترجمان نے بتایا ہے کہ دو لاکھ ستر ہزار سے زیادہ لوگ سانس کی بیماری جبکہ ایک لاکھ پچاسی ہزار سے زیادہ ملیریا کا شکار ہیں اور ملیریا کا شکار سولہ سو ساٹھ افراد کی حالت تشویشناک ہے۔

ادھر سندھ کی صوبائی حکومت نے سیلاب اور بارشوں سے متاثرین اور نقصانات کے جمعرات کو جاری کردہ اپنے تازہ اعداد و شمار میں بتایا ہے کہ صوبے بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد ساڑھے ترپن لاکھ سے بڑھ کر اٹھاون لاکھ چونسٹھ ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔

سندھ حکومت کے محکمۂ بحالی کے مطابق متاثرین میں خواتین کی تعداد پونے بیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ جبکہ متاثرہ دیہات کی تعداد انتیس سے بڑھ کر اکتیس ہزار سے بڑھ گئی ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق ساڑھے بیس لاکھ ایکڑ پر مشتمل فصلیں تباہ ہوئی ہیں جبکہ کل تک یہ تعداد پندرہ لاکھ پچانوے ہزار ایکڑ بتائی گئی تھی۔ سیلاب اور برسات سے متاثر ہونے والے مکانات کی تعداد بارہ لاکھ انتیس ہزار بتائی گئی ہے جس میں مکمل طور پر تباہ ہونے والے مکانات چار لاکھ باون ہزار سے زیادہ ہیں۔

سندھ حکومت کے مطابق امدادی کیمپوں کی تعداد ساڑھے چھبیس ہزار سے زیادہ ہے جہاں سوا چار لاکھ کے قریب لوگ مقیم ہیں۔ جبکہ اب بھی لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے مختلف سڑکوں اور نہروں کے پشتوں پر آباد ہیں۔

اس سے پہلے صوبہ سندھ میں سیلاب متاثرین کی مدد کرنے والے بین الاقوامی ادارے آکسفیم کا کہنا ہے کہ اس سیلاب سے پچاس لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جن کو کھانے پینے اور دیگر اشیا کی شدید ضرورت ہے۔

اسی بارے میں