جسقم کے چیئرمین ضمانت پر رہا

بشیر قریشی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بشیر قریشی کو جمعرات کے روز گرفتار کیا گیا تھا۔

جئےسندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر قریشی کو مقامی عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔

اس سے پہلے عدالت نے انھیں چودہ روزہ ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

ضمانت سے رہائی کے بعد بیشر قریشی نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان سے برآمد ہونے والا اسلحہ لائسنس یافتہ تھا۔

انھوں نے کہا کہ اگر انھیں کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری حکومت اور رینجرز پر عائد ہو گئی۔

اس سے پہلے رینجرز نے جمعرات کو کراچی کے علاقے گلشن حدید میں اسنیپ چیکنگ کے دوران جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر قریشی کی گاڑی سے تین کلاشنکوف اور ایک پستول برآمد کیا تھا۔

رینجرز کےترجمان کےمطابق بشیرقریشی کو ابتدائی تفتیش کے لیے حراست میں لے کے پولیس کے حوالے کردیا گیا۔رینجرز نے جسقم کے چیئرمین کی قیام گاہ پر بھی چھاپہ مار کر اسلحہ برآمد کیا تھا۔ اسٹیل ٹاؤن تھانے میں بشیر قریشی کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں جمعے کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق بشیر قریشی کے وکیل محمد خان شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت نے بیس ستمبر کو تفتیشی افسر کو طلب کیا ہے۔ محمد خان شیخ نے کہا کہ پولیس نے جمعے کو جو چار ایف آئی آرز عدالت میں پیش کی گئی ہیں ان میں رینجرز کی کارروائی کا ذکر تک نہیں اور ان میں اسے پولیس کی کارروائی ظاہر کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ملیر کورٹ کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ عبدالقیوم کی عدالت میں بشیر خان کی پیشی کے موقع پر جئےسندھ کے کارکن بھی موجود تھے جنہوں نے بشیر قریشی پر گل پاشی کی اور نعرے لگائے۔

پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بشیر قریشی کہا کہ کراچی کے کئی علاقوں میں اسلحے کے انبار موجود ہیں اور وہاں مسلح لوگ کھلے عام پھرتے ہیں مگر وہاں رینجرز نہیں جاتی۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے کسی کو قتل نہیں کیا اور میرے پاس جو اسلحہ ہے وہ لائسنس یافتہ ہے پھر مجھے کس جرم میں جیل بھیجا جا رہا ہے۔‘

وزیرِ داخلہ رحمان ملک سے متعلق سوال کے جواب میں بشیر قریشی نے کہا کہ رحمان ملک جھوٹ بولتے ہیں اور یہ بات ذوالفقارمرزا بھی کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی قوم پرستوں کے خلاف آپریشن کررہی ہے۔

بشیر قریشی کے وکیل محمد خان شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ دوہزار نو میں بشیر قریشی پر قاتلانہ حملہ ہواتھا جس میں ان کے ایک ساتھی مشتاق خاصخیلی اور ایک حملہ آور زاہد مصطفٰی نامی شخص ہلاک جبکہ ایک حملپ آور عمران کالا گرفتار ہوا تھا۔ گرفتارافراد کی جیب سے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کاشناختی کارڈ برآمد ہوئےتھے نکلے تھے جس کا مقدمہ درج کیاگیاتھا۔ اسی مقدمےکی سماعت پیرانیس ستمبر کوعدالت میں ہونے والی تھی اور بشیر قریشی بطور گواہ پیش ہونے والے تھے۔

بشیر قریشی کی گرفتاری کے خلاف سندھ میں ان کی جماعت نے مظاہرے کیے اس دوران پر کئی علاقوں میں ہنگامہ آرائی بھی کی گئی اور سُپرہائی وے بھی کئی گھنٹوں تک بندرہی۔ جسقم نے بشیر قریشی کی گرفتاری کے خلاف سندھ بھر میں تین روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے جس کی قوم پرست جماعتوں نے بھی حمایت کی ہے۔

ہڑتال کے اعلان پر جمعے کو سندھ کے کئی شہروں لاڑکانہ، نواب شاہ، دادو، نوشہرو فیروز، بدین، عمرکوٹ اور ٹھٹہ میں دکانیں اور کاروبار مکمل طور پر بند رہااور سڑکوں پر ٹریفک بھی تقریباً معطل رہی۔ حیدر آباد اور سکھر میں جزوی طور ہڑتال رہی اور کراچی میں کی سندھی اکثریتی علاقوں میں بھی ہڑتال رہی۔

اسی بارے میں